کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 128 of 302

کلام محمود — Page 128

ITA 66 بخش دو رحم کرو شکوے گلے جانے دو مرگیا ہجر میں میں پاس مجھے آنے دو دوستو ! کچھ نہ کہو مجھ سے مجھے جانے دو نمبر ناز سے تم سر مجھے کٹوانے دو پڑ گئی جس پہ نظر ہو گیا مد ہوش رہی میرے دلدار کی آنکھیں ہیں کہ منانے دو دوستو ! رحم کرو کھول دو زنجیروں کو جا کے جنگل میں مجھے دل ذرا سہلانے دو سر ہے پر فکر نہیں ، دل ہے پر امید نہیں اب میں بس شہر کے باقی یہیں ویرانے دو تمھیں تریاق مبارک ہو مجھے زہر کے گھونٹ غم ہی اچھا ہے مجھے تم بھے غم کھانے دو دوستو آبجھ تو ہے زندگی اس موت کا نام یار کی راہ میں اب تم مجھے مرجانے دو دل کی دل جانے مجھے کام نہیں کچھ اس سے اپنی ڈالی ہوئی گئی اسے سکھانے دو نفس پر بوجھ ہی ڈالو گے تو ہو گی اصلاح اونٹ لاتے ہیں کونسی بینے چلانے دو فکر پر فکر تو غم پر ہے غموں کی بوچھاڑ سانس تو لینے دو تھوڑا سات ستانے دو اک طرف عقل کے شیطان تو اک جانب نفس ایک دانا کو میں گھیرے ہوئے دیوانے دو بھی غیرت کے بھی دکھلانے کا موقع ہو گا یا یو نہی کہتے چلے جاؤ گے تم جانے دو کٹ گئی عمر رگڑتے ہوئے ما تھا اور پر کاش تم کہتے کبھی تو کہ اسے آنے دو مجھ سے سے اور تو غیروں سے سے کچھ اور سلوک دلبرا آپ بھی کیا رکھتے ہیں پیمانے دو تن سے کیا جان جدا رہتی ہے یا جان سے تن راستہ چھوڑ دو دربانو مجھے جانے دو اخبار الفضل جلد ۱۴ - ۲۴ راگست شله