کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 302

کلام محمود — Page 92

۹۲ مری تدبیر جب مجھ کو مصیبت میں پھنساتی ہے تو تقدیر الہی آن کر اس سے پھڑاتی ہے جدائی دیکھتا ہوں جب تو مجھ کو موت آتی ہے اُمید واصل لیکن آئے پھر مجھ کو چلاتی ہے نگاہ مہر سالوں کی خصومت کو بھلاتی ہے خوشی کی اک گھڑی برسوں کی گفت کو مٹاتی ہے محبت تو وفا ہو کر وفا سے جی چراتی ہے ہماری بن کے اسے ظالم ہماری خاک اڑاتی ہے محبت کیا ہے کچھ تم کو خبر بھی ہے مست مجھ سے یہ ہے وہ آگ جوخود گھر کے مالک ملاتی ہے کہاں یہ خانہ ویراں کہاں وہ حضرت دی شہباں کشش لیکن ہمار دل کی انکو کینی لاتی ہے ہوئی ہے بے سبب کیوں عاشقوں کی جان کی شمن نسیم صبح ان کے منہ سے کیوں آنچل اٹھاتی ہے منائیگا ہمیں کیا، تو ہے اپنی جان کا دشمن اسے ناداں کبھی مشتاق کو بھی موت آتی ہے نہ اپنی ہی خبر رہتی ہے ئے یادِ اعزہ ہی جب اس کی یاد آتی ہے تو پر سب کچھ بھلاتی ہے خُدا کو چھوڑنا اسے مسلم اکیا کھیل سمجھے تھے تمہاری تیرہ بختی دیکھئے کیا رنگ لاتی ہے محبت کی جھلک چھیتی کہاں ، لاکھ ہوں پڑے نگاہ زیر میں مجھ سے بھلا تو کیا چھپاتی ہے معاذ اللہ میرا دل اور ترک عشق کیا ممکن میں ہوں وہ با وفا جس کو فا کو شرم آتی ہے وہ کیسا سر ہے جو بہکتا ہے آگے ہر کہ میر کے دیکھیں آنکھ ہے جو ہر جگہ دریا بہاتی ہے آنا فل ہو چکا صاحب خبر لیجے نہیں تو پھر کوئی دم میں یہ کن لو گے فلاں کی نقش جاتی ہے اخبار الفضل - جلد ۷ - ۱۲ راگست سنه