کلام محمود — Page 91
= ۹۱ ۴۹ غم اپنے دوستوں کا بھی کھانا پڑے ہیں اختیار کا بھی بوجھ اُٹھانا پڑے ہیں اس زندگی سے موت ہی بہتر ہے اسے خدا جس میں کہ تیرا نام چھپانا پڑے ہمیں منبر پر چڑھ کے غیر کے اپنا مدعا سینہ میں اپنے ہوش ربا نا پڑے ہیں یہ کیسا عدل ہے کہ کریں اور ہم بھریں اغیار کا بھی قضیہ بچکانا پڑے ، ہمیں ئن مدعی نہ بات بڑھاتا نہ ہو یہ بات کوچہ میں اس کے شور مچانا پڑے ہیں آتنا نہ دور کر کہ کئے رشتہ کو واد سینہ سے اپنے غیر لگانا پڑے ہیں پھیلائیں گے صداقت اسلام کچھ بھی ہو جائیں گے ہم یہاں بھی کہ جانا پڑے ہیں پروا نہیں جو ہاتھ سے اپنے ہی اپنا آپ حرف غلط کی طرح مٹانا پڑے ہیں محمود کر کے چھوڑیں گے ہم حق کو آشکار روئے زمیں کو خواہ ہلانا پڑے ہیں اخبار الفضل - جلد ۷-۲۹ را پریل سنه