کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 74 of 302

کلام محمود — Page 74

ابر باراں کی طرح آنکھیں ہیں میری اشک بار ہے گریباں چاک گر میرا تو دامن تار تار میں جو ہنستا ہوں تو ہے میری ہنسی بھی بری نہیں جس کے پیچھے پھر مجھے پڑتا ہے رونا بار بار کات کرتا ہے میرادن بھی اندھیری رات کو میری شب کو دیکھ کر زلف حسیناں شرمسار میری ساری آرزوئیں دل ہی دل میں مرگئیں میرا سینہ کیا ہے لاکھوں حسرتوں کا ہے مزار ہو گیا میری تمناؤں کا پوداخٹک کیوں کیا بلا اس پر پڑی میں سے ہوا بے برگ بار کیوں میں میدان تفکر میں برہنہ پا ہوا کیوں چلے آتے ہیں دوڑے میری پابوسی فار اپنے ہم پیشوں کی آنکھوں میں ٹیک کیوں ہو گیا دیدن اختیار میں ٹھہرا ہوں کیوں بے اعتبار دشت غربت میں ہوں تنہا رہ گیا با حال دار پھوڑ کر مجھ کو کہاں کو چل دیتے اختیار دیار کچھ خبر بھی ہے تمھیں مجھے سے یہ سب کچھ کیوں ہوا کیوں ہوے اتنے مصائب مجھ سے اگر ہمکنار کیا تصور ایسا ہوا جس سے بہو ا معتوب میں کیا گیا جس پر تھوئے چاروں طرف سے مجھ پر دار اک بے تاباں کی اُلفت میں پھنسا بیٹھا ہوں دل اپنے دل سے اور جہاں اس سے میں کرتا ہوں پیار دہ مری آنکھوں کی ٹھنڈک میرے دل کا نور ہے ہے بدلا اُس شعلہ رو پر میری جاں پروانہ دار اُس کا اک اک لفظ میرے واسطے ہے جانفزا اُس کے اک اک قول سے گھٹیا ہے ڈرتا ہوار ایک کن کہنے سے پیدا کر دیئے اس نے تمام یہ زمیں یہ آسماں یہ دورہ لیل و نہار یہ چمن یہ باغ در بستاں سی گل یہ مینوں سب کرتے ہیں اُس ماہ رو کی قدرتوں کو آشکار ذرہ ذرہ میں نظر آتی ہیں اس کی طاقیتں ہر مکان و ہر زماں میں جلوہ گاہ حسن یار ہر حسین کو حُسن بخشا ہے اُسی دلدار نے ہر گل و گلزار نے پانی اسی سے ہے بہار ہر نگاہ فتنہ گرنے اُس سے پائی ہے جلا دور نہ ہو تی بخت عاشق کی طرح تاریک وتار اور اُس کا جلوہ گر ہے ہر در و دیوار میں ہے جہاں کے آئنہ میں منعکس تصویر یار اُس کی اُلفت نے بنایا ہے مکاں ہر نفس میں ہرول دیندار اس کے رخ پر ہوتا ہے نشار