کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 302

کلام محمود — Page 73

۴۰ کیا جب میں ہو گیا ہوں اس طرح تارودار کسی مصیبت نے بنایا ہے مجھے نقش جدار کیوں پھٹا جاتا ہے سینہ حبیب عاشق کی مثال روز و شب تسبیح و مسارتا ہوں میں کیوں دلفگار کیوں تسلی اس دل بے تاب کو ہوتی نہیں کیا سب اس کا کہ رہتا ہے یہ ہر دم بے قرار محبت عیش و طرب اس کونہیں ہوتی نصیب درد و غم رنج و الم اس تعلق سے ہے دو چار کیا سبب جو خون ہو کر ہر گیا میرا جگر بھی کیا ہے میری آنکھیں جو رواں ہیں میل دار زرد ہے چہرہ تو آنکھیں گھس گئیں منقوں مں میں جسم میرا ہو گیا ہے خشک ہو کر مثل خسار سوچتا رہتا ہوں کیا دل میں مجھے کیا فکر ہے جستجو میں کس کی چلاتا ہوں میں دیوانہ وار چھوڑے جاتے ہیں مجھے ہوش و حواس عقل کیوں کیوں نہیں باقی رہا دل پر مجھے کچھ اختیار کون ہے میاد میرا کس کھندے میں ہوں میں کس کی افسونی نگاہ نے کر لیا مجھ کو شکار مرغ دل میرا پھنسا ہے کس کے اہم عشق میں بس کے نقش پا کے پیچھے اُڑ گیا میرا غبار صفحہ دل سے مٹایا کیوں مجھے احباب نے کیوں کے مین ہوتے کیوں مجھ سے ہے کیان نقار جو کوئی بھی ہے کہ مجھ سے بر سر پیر فاش ہے ہر کوئی ہوتا ہے اگر میری چھاتی پر سوار سرنگوں ہوں میں مثال سایۂ دیوار کیوں پشت کیوں قسم ہے ہوا ہوں استاد کیوں زیر بار ہے بہار باغ و گل مثل خزاں افسردہ کن ہے جہاں میری نظر میں مثل شب تاریک تار اخبار التحكم جلد ۱۶ - جنوری ١٣له