کلام محمود — Page 75
60 بیلیں بھی سر پکھتی ہیں اسی کی یاد میں بجلی بھی رہتے ہیں اس کی چاہ میں سینہ فگار سرز بھی ہیں سرد قد رہتے اُس کے سامنے قمریاں بھی میں محبت میں اُسی کی بے قرار سب حسینان جہاں اُس کے مقابل پہنچے ہیں ساری دنیا سے نرالا ہے وہ میرا شہر یار اب تو سمجھے کس کے پیچھے ہے مجھے یہ منظر یاد میں کس ماہ رُو کی بہوں میں رہتا است کبار کس کی فرقت میں مہوا ہوں رنج وغم سے بہکنا ہجر یں کس کی تڑپتا رہتا ہوں لیل ونہار کیس کے مل رب نے چھینا سب شکیب مصطبار بس کی ڈز دیے نگاہ نے لے لیا میرا قرار کس کے نازوں نے بنایا ہے بے پنا شکار کس کے غمزہ نے کیا ہے مثل باراں اشکبار ہائے پر اسکے مقابل میں نہیں میں کوئی چیز ڈہ سراپا نور ہے میں مفعہ تاریک تار اُس کی شاں کو عقل انسانی سمجھ سکتی ہیں ذرہ ذرہ پر ہے اس کو مالکانہ اقتدار وہ اگر خالق ہے میں ناچیز سی مخلوق ہوں ہر گھڑی محتاج ہوں اُس کا وہ ہے پروردگار پاک ہے ہر طرح کی کمزور یوں اس کی ذات اور مجھ میں پائے جاتے ہیں نقائص صد ہزار منبع ہر خوبی وہ حسن و ہر نیکی ہے وہ میں ہوں اپنے نفس کے ہاتھوں خلوب اور خوار وہ ہے آقا میں ہوں خادم وہ ہے الک میں ظلم میں ہوں اک ادنی رعایا اور دہ ہے تاجدار علم کامل کا وہ مالک اور میں محرو بر مسلم وہ سراسر نور ہے لیکن ہوں میں تاریک تار اس کی قدرت کی کوئی بھی انتہا پاتا نہیں اور پوشیدہ نہیں ہے تم سے میرا حال زار اپنی مرضی کا ہے وہ مالک تو میں محکوم ہوں میری کیا طاقت کہ پاؤں زور سے گاہ میں بار عزت افزائی ہے میری گر کوئی ارشاد ہو فخر ہے میرا جو پاؤں رتبہ خدمت گذار طالب دنیا نہیں ہوں طالب دیدار ہوں تب جگر ٹھنڈا ہو جب دیکھوں رخ تابان یار کہتے ہیں ہر خرید یوسف فرخ فال ایک بڑھیا آئی تھی یا حالت زار و نزار ایک گالا روٹی کا لائی تھی اپنے ساتھ وہ اور یوسفٹ کی خریداری کی معنی اُمیدوار