کلام محمود — Page 27
۲۷ ۱۴ کیوں ہو رہا ہے خرم و خوش آج کل جہاں کیوں ہر دیار و شهر بنوا رشک بوستان چہرہ پہ اس مریض کے کیوں رونق آگئی جو کل تلک تھا سخنت ضعیف اور ناتواں ان بے کسوں کی تہمتیں کیوں ہوگئیں بلند جن کا کہ کل جہاں میں نہ تھا کوئی پاسباں وہ لوگ جو کہ راہ سے بے راہ تھے ہوئے کیوں ان کے چہروں پر ہے خوشی کا اثر عیاں تاریکی و جهالت و ظلمت کدھر گئی دُنیا سے آج ان کا ہوا کیوں ہے گم نشاں مجھ سے سنو کہ اتنا تغییر ہے کیوں ہوا جو بات کل نہاں تھی ہوئی آج کیوں عیاں یہ وقت وقت حضرت عیسی ہے دوستو جو نائب خدا ہیں جو ہیں مہدی زمان ہو کر غلام احمد مرسل کے آئے ہیں قربان جن کے نام یہ ہوتے ہیں انٹ جاں سب دشمنان دیں کو اُنھوں نے کیا ذلیل بخشی ہے رب عز وجل نے وہ عرب وشاں جو ان سے لڑنے آئے وہ دُنیا سے اٹھ گئے باقی کوئی بچا بھی تو ہے اب وہ نیم جاں ان کو ذلیل کرنے کا جس نے کیا خیال ایسا ہوا ذلیل کہ جینا ہوا محال رنج و غم و ملال کو دل سے بھلا دیا جو داغ دل پہ اپنے لگا تھا مٹا دیا ہم بھوٹے پھر رہے تھے کہیں کے کہیں گر جو راہ راست تھا نہیں اس نے بتا دیا اک جام معرفت کا جو ہم کو پلا دیا جتنے شکوک وشبہ تھے سب کو مٹا دیا اخبار بدر جلد ۳۰۰۶ رمئی سنشله