کلام محمود — Page 26
۲۶ تجھ پہ ہم کیوں نہ مریں مرے پیارے کہ ہے تو دولت و آبرو و جان سے پیارا ہم کو آدمی کیا ہے تو امتنع کی نہ عادت ہو جسے سخت لگتا ہے بڑا گھر کا پتلا ہم کو دشمن دین درندوں سے ہیں بڑھ کر خونخوار چھوڑ یو مست برے مولی کبھی تنہا ہم کو دیکھ کر حالت دیں خون جگر کھاتے ہیں مر ہی جائیں جو نہ ہو تیرا سہارا ہم کو دل میں آپ کے تیری یاد نے اسے رب کوڈوو بار ہا پہروں تلک خون رلایا ہم کو چونکہ توحید پہ ہے زور دیا ہم نے آج اپنے بیگانے نے چھوڑا ہے اکیلا ہم کو حق کو کڑوا ہی بتاتے چلے آئے ہیں لوگ یہ نئی بات ہے لگتا ہے وہ میٹھا ہم کو جوش اُلفت میں یہ لکھتی ہے غزل اسے محمود کچھ ستائش کی تمنا نہیں ادا ہم کو