کلام محمود — Page 125
۱۲۵ قونت تو مجھے چھوڑ چکی ہی تھی کبھی کی اب صبر بھی کیا جانے کدھر کو ہے سدھارا اب نکلوں تو کس طرح ان آنا سے نکلوں یہ ایسا سمندر ہے نہیں جس کا کنارا سالک تھا اسی منکر و غم و رنج میں ڈوبا جاگاہ اُسے باتت نیسی نے پکارا اے سید مصائب بنگہ یار کے کشتے میں نے تجھے مارا ہے رہی ہے ترا چارا تکلیف میں ہوتا نہیں کوئی بھی کسی کا اسباب بھی کر جاتے ہیں اس وقت برکنارا مرنا ہے تو اس در پہ ہی مرجی تو وہیں ہی ہوگا تو وہیں ہوگا ترے درد کا چارا مانا کہ ترے پاس نہیں دولت اعمال مانا تیرا دُنیا میں نہیں کوئی سہارا پر صورت احوال اُنہیں جا کے بتا تو شاہاں چه عجب گر بنوازند گدا را