کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 100
*** H نے ایسے سامان پیدا کئے ہیں کہ وہ خوکی وہاں جا کر دودھ بن جاتا ہے لے يوم ينفخ في الصور النمل ۸۸۱) کی تفسیر نے حالات حاضرہ کا نقشہ کھینچ دیا ہے :- اس آیت میں ہوائی جہازوں اور ایٹم بموں کا ذکر معلوم ہوتا ہے۔ہوائی جہاز آسمان پر اڑتے ہیں اور ایٹم بم زمین میں پھٹ کر زمین کے رہنے والوں کو تباہ کر دیتا ہے پھر آتشیں مادے کو آسمان کی طرف دھکیل دیتا ہے۔الا من شاء اللہ میں بتایا کہ با وجود اس کے یہ تبا ہی عام ہوگی پھر بھی خدا تعالی کے حضور دعا کا راستہ کھلا رہے گا اور جو خدا تعالیٰ کو خوش کر سکے گا وہ اس تباہی سے محفوظ رہے گا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سائنسدانوں نے اپنی کوششوں اور تدبیروں کے ساتھ موت کے ذریعہ کو معلوم کر لیا ہے مگر اسلام کو قائم کرنے والا وہ خدا ہے جس کے ہاتھ میں موت بھی ہے اور حیات بھی۔وہ موت کے ذریعہ کو اپنے ہاتھ میں لے کر یہ سمجھتے ہیں کہ ہم دنیا پر حاکم ہوگئے حالانکہ اصل حاکم وہ ہے جس کے قبضہ میں موت اور حیات دونوں ہیں اور اُس نے بتایا ہے کہ اگر لوگ دعاؤں سے کام لیتے رہیں گے تو اس تباہی له تفسیر کبیر جلد سوم صفحه ۶۸۸