کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 99
۹۹ آیت اِن لَكُمْ فِي الْأَنْعَامِ لَعِبرة (نخل : ۶) خالقِ کائنات کی ہستی پر کتنی زبر دست ودلیل پیش فرمائی ہے :- یہ آیت اس امر یہ بھی شاہدہ ہے کہ قرآن کریم کا نازل کر نیوالا دنیا کا خالق بھی ہے کیونکہ اس میں دودھ کے پیدا ہونے کا وہ طریق بتایا گیا ہے جو اس وقت دنیا کو معلوم نہ تھا اور بعد میں دریافت ہوا ہے اور وہ یہ کہ غذا معدہ میں سے انٹریوں میں آتی ہے اس سے فرٹ تیار ہوتا ہے اس فرش سے ایک مادہ خون بن جاتا ہے اور اس خون سے دودھ بنتا ہے۔یہی وہ حقیقت ہے جونزول قرآن کے بعد کی تحقیق سے ثابت ہوئی ہے چنانچہ بعد کے مفسرین نے ابتدائی مفسرین کی غلطی کو پیش کر کے ظاہر کیا ہے کہ در حقیقت فرش سے خون اور خون سے لبن بنتا ہے مگر جو تشریح انہوں نے بیان کی ہے وہ بھی پوری طرح سائنس کے مطابق نہیں لیکن قرآن کے الفاظ سائنس کی موجودہ تحقیق کے بالکل مطابق ہیں۔اور وہ یہ ہے کہ غذا معدہ سے انٹریوں میں جاتی ہے وہاں سے اس کا منہضم لطیف حصہ بعض عروق کے ذریر سے ایک حصہ سیدھا دل تک جاتا ہے اور وریدوں میں سے گزر کر فوراً خون بن جاتا ہے اور ایک اور لطیف حصہ متحدہ سے براہ راست جگر میں جاکر وہاں سے وریدوں کے ذریعہ دل میں گر کر خون بن جاتا ہے پھر یہ خون جب تھنوں کے قریب جاتا ہے تو وہاں اللہ تعالے