کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 73
اس عقیدہ پر قائم ہو گئے اُن پر فرشتے اتریں گے یہ کہتے ہوئے کہ ڈرو نہیں اور کسی پچھلی فلملی کام نہ کرو اور اس جنت کے ملنے سے خوش ہو جاؤ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔آپ آئے یہ معلوم کریں کہ فیضان قرآن کی ان تجلیات کا ظہور حضرت مصلح موعود کے بابرکت وجود سے کس طرح نمایاں رنگ میں ہوا ؟ کے معلوم نہیں وجود باری تعالی، ملائکہ اور وحی و نبوت، یہ ایمانیات کے وہ تین بنیادی مسائل ہیں جن پر کلام اللہ کی تمام تعلیمات کا دارو مدار ہے۔اس کی پوری عمارت انہی مسائل پر قائم ہے مگر افسوس ! کہ گذشتہ صدی میں بعض چوٹی کے مسلم مفکروں اور صاحب طرز مصنفوں اور مورخوں نے جن میں جواد الدولہ عارف جنگ ڈاکٹر سرسید احمد خاں بانی علی گڑھ کالج ، جناب جسٹس سید امیر علی اور جناب نیاز حمد خان صاحب نیاز فتح پوری سر فہرست ہیں اس نظریہ کی وسیع پیمانے پر اشاعت کی کہ خدا تعالی لفظوں میں کلام نہیں کرتا۔فرشتے کوئی جدا مخلوق انسان سے بالا تر نہیں ہیں بلکہ انسانی قومی کو ملائک سے تعبیر کیا گیا ہے۔کلام الہی صرف ایک ملکہ فطرت ہے اور وحی کوئی خارجی چیز نہیں ہے۔کسی ایلچی یا قاصد کی وساطت سے نازل نہیں ہوتی بلکہ خود بخود ایک چیز اس کے دل سے اُٹھتی ہے اور اسی پر گرتی ہے بیہ ل (1) حیات جاوید سوران سرسید احمدخان مرحوم از الما والا اما این حال اداری با او “THE LIFE AND TEACHINGS OF (۲) MUHAMMED" BY SYED AMEER ALI ۵۵۸۵۵ مطبوعہ لکھنوی (Page 195) (۳) " من و یزدان» از مولانا نیاز فتحپوری صداه