کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 72
منہ موڑ لیا اور وہ تمام رصد گا ہیں جو قرآن میں موجود تھیں اُن سے وہ غافل اور لا پروا ہو گئے تب خدا نے میرے دل پر اس عظیم الشان راز کا انکشاف کیا اور میرے دل نے کہا میں نے پا لیا، نہیں نے پالیا اور جب میں نے کہا میں نے پالیا تو اس کے معنے یہ تھے کہ اب یہ نعمتیں دنیا سے زیادہ دیر تک مخفی نہیں رہ سکتیں میں دنیا کے سامنے ان تمام نعمتوں کو ایک ایک کر کے رکھوں گا اور اسے مجبور کروں گا کہ وہ اس طرف توبہ کرے یا لے چھٹا پیلو (فیضان قرآن کی تجلیات) قرآن مجید کا ایک مرتبہ عظمیٰ یہ ہے کہ اس کے فیض و برکت سے خدا تعالے سے ایک زندہ تعلق پیدا ہو جاتا ہے اور فرشتے اس سے ہم کلام ہوتے ہیں چنانچہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے :- اللَّهَ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِم المليكة الا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَابْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُم تُوعَدُونه (لحم سجده : اسم یعنی وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے پھر منتقل مزاجی سے له سیر روحانی جلد سوم صفحه ۱۱۵ ۱۹۷ +