کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ

by Other Authors

Page 39 of 178

کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 39

کا مرتبہ دیگر الہامی کتب سے فائق اور رفیع تو ہے اور یہ حضرت مصلح موعود کی قرآن دانی کا کمال ہے مثلاً سورہ بنی اسرائیل کی آیت مَثَلُ كَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ كشجرة طيبة میں قرآن مجید کا عالی مرتبہ بیان ہوا ہے۔اگر ہم اس تعلق میں حضور کی حق و معرفت سے بھری ہوئی تفسیر کا ہی مطالعہ کریں تو انسان کی روح وجد میں آجاتی ہے۔ذیل میں اس تفسیر کا خلاصہ حضور ہی کے الفاظ میں پیش کرتا ہوں :- یہ علامات شجرہ طبقیہ کی جو قرآن کریم نے بیان کی ہیں تازہ کلام الی کی جو مصفی اور زندہ ہو ایسی یقین تشریح کر دیتی ہیں کہ پیچھے اور جھوٹے کلام میں فرق کرنے میں کوئی مشکل ہی باقی نہیں رہتی۔چنانچہ جب ہم ان علامات کی روشنی میں قرآن کریم کو دیکھتے ہیں تو ہر علامت اس میں ایسے حیرت انگیز طور پر پائی جاتی ہے کہ بلید سے بلید آدمی بھی اس امر کو تسلیم کرنے سے رک نہیں سکتا کہ یہ کلام اپنے اندر بے نظیر خوبیاں رکھتا ہے اور وہ فوق العادت طاقتیں اس میں پائی جاتی ہیں اس حد تک کہ نہ کوئی انسانی کلام اور سابقہ آسمانی کتب اس سے ان امور میں برابری کر سکتی ہیں۔ایک مختصر تفسیر میں ان امور کی تفصیلات بیان کرنے کا تو موقع نہیں مل سکتا لیکن اختصار ا یک بان امور کو قرآن کریم پہ چسپاں کر کے بتاتا ہوں کہ یہ سب علامات قرآن کریم میں ایسے اعلیٰ اور الکمل طور پر پانی جاتی ہیں کہ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔