کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ

by Other Authors

Page 40 of 178

کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 40

۴۰ سب سے پہلے میں طلبہ کے لفظ میں جن خوبیوں کی طرف اشارہ ہے انہیں لیتا ہوں۔طَيِّبَةُ کا لفظ جس چیز کے لئے بولا جائے اس کے لئے شرط ہے کہ اس میں ظاہری یا باطنی کوئی نقص نہ ہو۔کوئی ضرر نہ ہو۔اب ہم قرآن کریم کو دیکھتے ہیں تو اس کے اندر ہمیں یہ بات غیر معمولی طور پر نظر آتی ہے کہ باوجود اس کے کہ اس میں ایسے مضامین بیان کئے گئے ہیں جو نہایت نازک ہیں لیکن پھر بھی اس کی زبان نہایت اعلیٰ اور تحذیب کے انتہائی نقطہ پر قائم رہتی ہے۔میاں بیوی کے تعلقات ، حیض و نفاس کا ذکر ، عورت مرد کی جذباتی زندگی یہ سب کچھ اس میں بیان ہے لیکن ایسے عمدہ طریق سے کہ نازک سے نازک طبیعت اس سے صدمہ محسوس نہیں کرتی۔اس کی زبان ایسی صاف ہے کہ نہ فقیل لفظ ہیں نہ پیچیدہ بندشیں نہ شاعرانہ تخیلات بلکہ ہر مضمون کو خواہ کسی قدر مشکل ہو وہ اس محمدگی سے اور ایسے سادہ لفظوں میں ادا کرتا ہے کہ نہ کانوں پر اس کی عبارت گراں گزرتی ہے نہ دماغ اس سے پریشان ہوتا ہے۔تعلیم ایسی سادہ اور لطیف ہے کہ اس پر عمل کر کے کسی نقصان کا خطرہ معلوم ہی نہیں ہوتا۔دوسرے معنے طیبہ کے یہ ہیں کہ اس کا موصوف خوبصورت ہو۔ان معنوں کی رُو سے بھی قرآن کریم سب کتب سے ممتاز نظر آتا ہے۔اس کا ظاہری حسن ایسا نمایاں ہے کہ کوئی کتاب اس کے سامنے ٹھہر نہیں سکتی۔الفاظ کی خوبی،