کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 37
۳۷ یا درکھنا چاہیے کہ انبیاء کی وحی کئی قسم کی ہوتی ہے: (۱) ایک وہ وجی ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے الفاظ میں کانوں پر پڑتی ہے اور زبان پر جاری ہوتی ہے (۲) دوسری وحی رویا و کشوف ہیں یہ الفاظ میں نہیں بلکہ نظاروں میں ہوتی ہے (۳) تیسری وحی خفی ہوتی ہے جو الفاظ میں نازل نہیں ہوتی نہ نظارہ دکھایا جاتا ہے بلکہ تقسیم اور انکشان کے ذریعہ ہوتی ہے۔دل میں ایک خیال پیدا ہوتا ہے مگر ساتھ ہی یہ بھی دل میں ڈالا جاتا ہے کہ یہ تمہارا خیال نہیں بلکہ خدا کی طرف سے ڈالا گیا ہے اور الفاظ اس کو خود بنانے پڑتے ہیں۔یہ سب سے ادنیٰ وحی ہے۔اب اگر ایک نبی اپنی تمام وحی کو ایک کتاب میں جمع کر دیے جس میں وہی کلام بھی ہو اور وہی کشف و رڈیا بھی ہو اور وحی خفی بھی نبی کے اپنے الفاظ میں ہو تو اسے ہم کتاب اللہ تو کہ سکتے ہیں لیکن ہم اسے کلام اللہ نہیں کہہ سکتے کیونکہ وہ سب کی سب کلام اللہ نہیں بلکہ اس میں ایک حد تک کلام بشر بھی ہے گو مضمون سب کا سب خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اس وجہ سے وہ کتاب کتاب اللہ ہے۔اب اس فرق کو مد نظر رکھ کر دیکھ لو دنیا کی کوئی کتاب خواہ کیسی قوم کی ہوا اور کس قدر ہی شد و مد کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کی بھاتی ہو کلام اللہ نہیں ہوسکتی کیونکہ ایک بھی ایسی کتاب نہیں نہ موجودہ صورت میں اور نہ اُس صورت میں جس طرح کیسی