کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 36
جسے اس تعیین کے ساتھ اپنے لئے مشعل راہ بنایا جاسکے کہ اس سے کوئی مشتبہ حکم نہ ملے گا یا ہے آپ نے ثابت کیا کہ جس طرح ” بیت اللہ کا لفظ صرف خانہ کعبہ کے ساتھ مخصوص ہے اسی طرح قرآن کے سوا کوئی اور کتاب کلام اللہ کہلانے کی مستحق نہیں ہو سکتی۔اس زبر دست تحقیق کا خلاصہ میں حضورہ ہی کے الفاظ میں پیش کرتا ہوں :- قرآن کریم میں کلام اللہ کا لفظ تین جگہ آیا ہے اور تینوں جگہ قرآن کریم کے متعلق ہی استعمال ہوا ہے کسی اور کتاب کے متعلق نہیں۔اس لئے عقلاً یہی کہا جائے گا کہ قرآن ہی کلام اللہ ہے اور ہمارا کوئی حق نہیں کہ ہم بلادلیل یہ خیال کریں کہ قرآن کریم کے سوا کوئی اور آسمانی کتاب بھی کلام اللہ کے نام کی مستحق ہے۔کتاب اللہ اور کلام اللہ میں فرق ہے۔کتاب اللہ ہر اس کتاب کو جس میں خدا کی باتیں ہوں کہا جاسکتا ہے لیکن کلام اللہ ہر ایک کو نہیں کہا جا سکتا۔دوسری الہامی کتابوں کو کتاب اللہ کہا گیا ہے اور کتاب اللہ کا لفظ قرآن کے متعلق بھی موجو د ہے مگر دوسرا لفظ کلام اللہ صرف قرآن کے لئے استعمال کیا گیا ہے کسی اور کے لئے نہیں۔یہ فرق ہے اور یہ بغیر حکمت کے نہیں۔اس فرق کو سمجھنے کیلئے ے تفسیر کبیر جلد اول (دیباچہ) جز اول ہے