کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 34
۳۴ قرآن کریم میں کئی مقامات پر مجاز اور استعارہ بھی استعمال کیا گیا ہے مگر چونکہ قرآن کریم دائمی شریعت ہے اس لئے اس نے ساتھ ہی محکم آیات بھی رکھ دی ہیں کہ جو کوئی دوسرے معنے کرنے ہی نہیں دیتیں۔جب استعارے کو استعارے کی حد تک محدود رکھا جائے گا تو اس کے معنے ٹھیک رہیں گے مگر جب استعارہ کو حقیقت قرار دے دیا جائے گا تو دو آیتیں آپس میں کرا جائیں گی۔غرض قرآن کریم کا یہ ایک عظیم الشان معجزہ ہے جس کے مقابلہ میں باقی الہامی کتب قطعا نہیں ٹھر سکتیں۔۔۔۔قرآن کریم کو وہ عظمت حاصل ہے جو دنیا کی اور کیسی کتاب کو حاصل نہیں۔اور اگر کسی کا یہ دعوی ہو کہ اس کی مذہبی کتاب بھی اس فضیلت کی حامل ہے تو میں چیلنج دیتا ہوں کہ وہ میرے سامنے آئے اگر کوئی وید کا پیرو ہے تو وہ میرے سامنے آئے اگر کوئی تو ریت کا پیرو ہے تو وہ میرے سامنے آئے اگر کوئی انجیل کا پیرو ہے تو وہ میرے سامنے آئے اور قرآن کریم کا کوئی ایسا استعارہ میرے سامنے رکھ دے جس کو یکیں بھی استعارہ سمجھوں پھر میں اس کا حل قرآن کریم سے ہی نہ پیش کر دوں تو وہ بے شک مجھے اس دعوی میں جھوٹا سمجھے لیکن اگر پیش کر دوں تو اسے ماننا پڑے گا کہ واقعہ میں قرآن کریم کے سوا دنیا کی اور کوئی کتاب اس خصوصیت کی حامل مشین کیا نے فضائل القرآن ص ۳۳ ۲۳۹ به 4۔