کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 126
طار يفتنِ مِنَ الْمُؤمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا۔فَإِنْ بَغَتْ احد يهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِى حَتَّى تَقى إلى امرِ اللهِ فَإِنْ فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا اِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ (الحجرات : 10) یعنی اگر دو قومیں مسلمانوں میں سے آپس میں لڑ پڑیں تو ان کی آپس میں صلح کرا دو یعنی دوسری قوموں کو چاہیے کہ بیچے نہیں پڑ کر ان کو جنگ سے روکیں اور جو وجہ جنگ کی ہے اس کو مٹائیں اور ہر اک کو اس کا حق دلائیں لیکن اگر با وجود اس کے ایک قوم باز نہ آئے اور دوسری قوم پر حملہ کر دے اور مشتر کہ انجمن کا فیصلہ نہ مانے تو اس قوم سے جو زیادتی کرتی ہے سب قومیں مل کر لڑو یہاں تک گر خدا کے حکم کی طرف وہ کوٹ آئے یعنی ظلم کا خیال چھوڑ دے پس اگر وہ اس امر کی طرف مائل ہو جائے تو ان دونوں قوموں میں پھر صلح کرا دو مگر انصاف اور عدل سے اور مروت سے کام لو اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔اس آیت میں بین الاقوامی ضلع کے قیام کے لئے مندرجہ ذیل لطیف گر بتائے ہیں :- سب سے اول جب دو قوموں میں لڑائی اور فساد کے آثار ہوں معا دوسری قومیں بجائے ایک یا دوسری کی طرفداری کرنے کے ان دونوں کو نوٹس دیں کہ وہ قوموں کی پنچائت سے اپنے جھگڑے کا