کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 127
۱۲۷ فیصلہ کرائیں اگر وہ منظور کر لیں تو جھگڑا مٹ جائے گا لیکن اگر ان میں سے ایک نہ مانے اور لڑائی پر تیار ہو جائے تو دوسرا قدم یہ اُٹھایا جائے کہ باقی سب اقوام اس کے ساتھ مل کر لڑیں ظاہر ہے کہ سب اقوام کا مقابلہ ایک قوم نہیں کر سکتی ضرور ہے کہ جلد اس کو ہوش آ جائے اور وہ مصلح پر آمادہ ہو جائے۔پس جب وہ صلح کے لئے تیار ہو تو تیسرا قدم یہ اٹھائیں کہ ان دونوں قوموں میں جن کے جھگڑے کی وجہ سے جنگ شروع ہوئی تھی صلح کرا دیں یعنی اس وقت اپنے آپکو فریق مخالف بنا کر خود ہی اس سے معاہدات کرنے نہ بیٹھیں بلکہ اپنے معاہدات کو جو پہلے تھے وہی رہنے دیں صرف اس سے پہلے جھگڑے کا فیصلہ کریں جس سبب سے جنگ ہوئی تھی اب جنگ کی وجہ سے نئے مطالبات قائم کر کے ہمیشہ کے فساد کی بنیاد نہ ڈالیں۔چوتھے یہ امر مد نظر رکھیں کہ معاہدہ انصاف پر مبنی ہو یہ نہ ہو کہ چونکہ ایک فریق مخالفت کر چکا ہے اس لئے اس کے خلاف فیصلہ کر دو۔باوجود جنگ کے اپنے آپ کو ثالثوں کی ہی صف میں رکھو فریق مخالف نہ بن جاؤ۔ان امور کو یہ نظر رکھ کر اگر کوئی انجمن بنائی جائے تو دیکھو دنیا میں کسی طرح بین الاقوامی مصلح ہو جاتی ہے یا اے پھر حضور نے ۱۹۳۲ء میں فرمایا :- له احمدیت یعنی حقیقی اسلام نوشته ۱۱۹۲۴ صفحه ۲۲-۲۲۹ ۵