کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 67
46 کو باہر نکال کر کھلے میدان میں راتیں بسر کرتے تھے۔مندرجہ ذیل تبصرہ موجود ہے کہ یہ موسم ماہ دسمبر کا نہیں ہو سکتا۔ہمارا کرسمس ڈے (CHRISTMAS DAY) مقابلہ بعد کی ایک روایت ہے جو کہ پہلے پہل مغرب میں پائی گئی۔اسی طرح بشپ جارنس اپنی کتاب "RISE OF CHRISTINIATY" میں تحریر کرتے ہیں :- اس تحقین کے لئے کوئی قطعی ثبوت نہیں کہ ۲۵ دسمبر ہی کو مشیح کی پیدائش کا دن تھا۔اگر ہم لوقا کے بیان کر دہ ولادتِ مشیح کی کہانی یقین کر لیں تو اس موسم میں گڈریے رات کے وقت اپنے بھیڑوں کے گلہ کی نگرانی بیت لحم کے قریب کھیتوں ہیں کرتے تھے تو اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ کی پیدائش موسم سرما میں نہیں ہوئی جب کہ رات کا ٹمپر پھر اتنا گر جاتا ہے کہ یہودیہ کے پہاڑی علاقہ میں برفباری ایک عام بات ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا کرسمس ڈے کافی بحث و تمحیص کے بعد قریاتہ میں متعین کیا گیا ہے یا لے کا سر صلیب کے فرزند جلیل کے بیان فرمودہ اس قرآنی انکشاف نے کلیپ یا پر لرزہ طاری کر دیا ہے اور اس سے صدیوں کے خیالات پر زبر دست ه تغییر کبیر خادم ۱۱۸۲۵ ۱۸۵