کلامِ ظفرؔ — Page 148
279 کلام ظفر بمناسبة ورُودِسَيِّينَا أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ رضي الله عنه بِقَرْيَةِ أَحْمَدَ نَغَرَ (وَقتَ المَسَاءِ ) حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی احمد عمر کے گاؤں میں بوقت شام تشریف آوری يَا أَرْضَ قَرْيَتِنَا الصَّغِيرَةِ أَسْلِمِي اے ہماری چھوٹی سی بستی ! تم سلامت رہو وعمى مَسَاءً يَا سَعِيدَةُ وَانْعِمِي اے خوش نصیب بستی ! تجھ پر شام کا سلام اور تم خوشحال رہو۔وَضَعَ الْأَمِيرُ عَلَى تُرَابِكَ رِجْلَهُ امیرالمومنین نے تیری سرزمین پر اپنا قدم رکھا ہے فَتَلالاً اللَّدَاتُ مِثْل الأنجم تو تیرے ذرات ستاروں کی مانند چمک اٹھے ہیں 280 كَمْ مِنْ مَّسَاء قَد رَأَيْتَ مُرُورَة تو نے کئی شا میں اپنے پر گزرتی دیکھی ہیں هَلْ فُزْتِ قَط بِمِثْلِ هَذَا الْمَقْدَمِ کلام ظفر لیکن کیا تو کبھی اس قسم کی مبارک تشریف آوری سے سرفراز ہوئی ہے؟ رُدَّتُ إِلَيْكِ الشَّمْسُ بَعْدَ غُرُوبِهَا اے بستی ! سورج غروب ہونے کے بعد دوبارہ تیری طرف لوٹا دیا گیا ہے ( یعنی سید نامحمود کی صورت میں ) وَاللهِ إِنَّكِ ذَاتُ حَقٌّ أَعْظَمِ اللہ کی قسم! تو سب سے بڑھ کر خوش نصیب ہے۔يَا قَلْبُ صَبْرًا لَا أُحِبُّكَ شَاكِيًا اے میرے دل ! تو صبر سے کام لے۔مجھے تمہارا شکوہ کرنا پسند نہیں أَنظُنُ أنَّ اللهَ لَيْسَ بِعَالِمِ کیا تو گمان کرتا ہے کہ اللہ تیری قلبی کیفیت سے واقف نہیں؟