کلامِ ظفرؔ — Page 79
141 کلام ظفر 142 کلام ظفر شکل ہے سنے گا کوئی ہمارا پیام مشکل ہے کہ ترک عیش و فنا کا مقام مشکل ہے ہے جبر غیر پہ اسلام کی اگر تعلیم وہ ہو جہان میں مقبول عام مشکل ہے وہ ملک جس میں کہ آزادی ضمیر نہ ہو کرے گا اس کا کوئی احترام مشکل ہے وہ ملک جس میں بہت سے ہوں مولوی اس کا خلل پذیر نہ ہو انتظام مشکل ہے پکڑ نا سانپ کوگردن سے سہل ہے لیکن خلاف مرضی واعظ کلام مشکل ہے وہ مولوی جسے آتا نہ ہو وضو کرنا بنے وہ سارے جہاں کا امام مشکل ہے تجھے ہے یاد بھی اے سرزمین پاکستاں کہ لوگ کہتے تھے تیرا قیام مشکل ہے خدائے پاک کے بندوں پہ ہو ستم جس میں وہ سر زمین رہے نیک نام مشکل ہے ملی رہی اگر احرار کو یہ حریت تو حریت کا زمیں پر قیام مشکل ہے خدا پر رکھ کے نظر تو کئے جا کام ظفر نه شکوہ سنج کبھی ہو کہ کام مشکل ہے روزنامه الفضل 26 دسمبر 1952ء جلسہ سالانہ نمبر صفحہ 16) ترانه ناصرات ہم احمدی بنات ہیں خدا کی ناصرات ہیں رسولِ پاک مصطفی کی دل سے خادمات ہیں ہم احمدی بنات ہیں خدا کی ناصرات ہیں ہے جس کے ہاتھ خیر وشر بنائے جس نے بحروبر اسی پہ اپنی ہے نظر ہم اس کی عابدات ہیں ہم احمدی بنات ہیں خدا کی ناصرات ہیں خدائے پاک کی قسم اُٹھا کے دین کا علم بڑھیں گی جو قدم قدم ہمیں وہ مومنات ہیں ہم احمدی بنات ہیں خدا کی ناصرات ہیں ہمارا جذبہ جواں بسائے گا نیا جہاں ابھی تو ہم ہیں بچیاں ابھی تو طالبات ہیں ہم احمدی بنات ہیں خدا کی ناصرات ہیں