کلامِ ظفرؔ — Page 55
93 ان کے ہی ٹور پاک سے تاریکیاں چھٹیں الحاد و کفر و شرک کی بدعات و زور کی روحانی روشنی ہو کہ جسمانی روشنی روشن ہیں روشنی سے فقط آنحضور کی اے عالم الغیوب تجھے کیا خبر نہیں جو کیفیت ہے میرے دل ناصبور کی کیا چیز ہیں خطائیں مری اے میرے خدا! رکھ لاج اپنے نام رحیم غفور کی و یا رب تو میری ساری خطائیں معاف کر کر ڈور میل دل سے مرے ہر قصور کی وہ دے کلام ظفر جو کل کو آج دیکھ سکے نگاه شہور کی منزلیں سمیٹ سنین و دے دیوانگی عشق کی ہوں مستیاں عطا ہشیاریاں معاف ہوں عقل و شعور کی احمد کے عاشقوں میں ظفر کا بھی نام ہے اُڑتی خبر سُنی ہے زبانی طیور کی ( روزنامه الفضل 26 دسمبر 1954 ء جلسہ سالانہ نمبر صفحہ 14) 94 در مدح حضرت مصلح موعود اے تخیل گر رسائی پر تجھے کچھ ناز ہے تا سر عرش بریں تیری اگر پرواز ہے شاخ ہائے سدرہ پر گر تو نشیمن ساز ہے عالم ملکوت سے تو کچھ اگر ہم راز ہے پنجه تسخیر کلام ظفر تو مرے محمود کے احسان کی تصویر کھینچ ! نقش ان کے حسن کا در پردۂ تحریر کھینچ ؟ سے بالا میہ کامل نہیں توڑنا تارے فلک کے یہ کوئی مشکل نہیں غیر ممکن کچھ بیان جذبہ ہائے دل نہیں اور بیروں از احاطہ بحرِ بے ساحل نہیں پر احاطه مردِ کامل کا بہت دشوار ہے یہ وہ نکتہ ہے جہاں ادراک بھی لاچار ہے