کلامِ ظفرؔ

by Other Authors

Page 97 of 194

کلامِ ظفرؔ — Page 97

(177) مر دراه دان (کسی کی فرمائش) سُنا نہ عشق و محبت کی داستان مجھے کلام ظفر 178 میں اس کے قدموں پہ سر رکھ کے جاں شمار کروں P ملے جو راہ محمد کا راہ دان مجھے بنالوں آنکھ کا سُرمہ میں یا رسُول اللہ کبھی ملے جو تیری خاک آستان مجھے مجھے یقیں ہے کہ آخر میں ڈھونڈ لونگا تجھے کہ تیرے پیار سے پیاری ہے اپنی جان مجھے قدم قدم پہ ہے ملتا ترا نشان مجھے تو اپنے پیار کو اپنے ہی پاس رہنے دے کہیں نہ کر دے ترا پیار بدگمان مجھے ترے چمن کے گلوں کی مجھے نہیں حاجت نہ سبز باغ دکھا تو اے باغبان مجھے جہاں میں صدق و صفا کا کہیں بھی نام نہیں فریب دیتے رہے میرے مہربان مجھے سکون دل جو میتر نہیں تو کچھ بھی نہیں اگر سکوں ہے تو حاصل ہیں دو جہان مجھے خدا ہی جانے کہ کیوں آج میں ذلیل ہوا تھے سجدہ کرتے کبھی اہل آسمان مجھے کہیں بلند ہے میری خودی کا پیمانہ سمجھ سکا نہ کبھی میرا راز دان مجھے مقابلے جو آئے گا تک اُٹھائے گا خدا نے بخشی ہے وہ قوت بیان مجھے خدا کا شکر بجا لاؤں کس طرح جس نے حقیقتوں کا بنایا ہے ترجمان مجھے اب آسمان جاکر اُسے میں ڈھونڈوں گا میں اس جہان میں مرغ نہال سدرہ ہوں زمیں پہ مل نہ سکا مردِ راہ دان مجھے نہ آپ سمجھے زندانی مکان مجھے کلام ظفر