کلامِ ظفرؔ — Page 98
179 کلام ظفر 180 کلام ظفر حوالات کی رات حلقہ شعر میں مشہور ”وہ گجرات کی رات“ ایک شاعر کی محبت کی محرکات کی رات میرے ہم دم یہ مری تلخی اوقات کی رات بن گئی میرے لئے عین عنایات کی رات اپنے مولائے حقیقی سے مناجات کی رات اور پھر اس کی کریمانہ بشارات کی رات ئے گساروں کی بھی اک رات ہے برسات کی رات باده آشامی و سرمستی و لذات کی رات محتسب پاتا اگر آج یہ برکات کی رات ضبط کر لیتا ظفر تیری حوالات کی رات روزنامه الفضل 5 مئی 1990 ء صفحہ 2) عشق کے ماروں کی مخصوص ملاقات کی رات پہلوئے حُسن میں اک عالم جذبات کی رات اور زرداروں کی پُر عیش محلات کی رات جبکہ یہ رات ہو بالائی فتوحات کی رات نیز کچھ یاروں کی آزاد فکاہات کی رات مل کے ہننے کی ہنسانے کی مساوات کی رات یہ سبھی راتیں ہیں مانا کہ بڑی بات کی رات ان سے خوش تر ہے کہیں میری حوالات کی رات