کلامِ ظفرؔ — Page 82
147 کلام ظفر 148 کلام ظفر مقبول جہاں۔قادیان اے مقدس سر زمیں اے قادیان اے زمین محترم دارالاماں اے پیارے ہم غریبوں کے وطن اے ہماری جان کی روح رواں اے کہ ہستی تھی تری گمنام تر جانتا کوئی نہ تھا نام و نشان کون سا وہ لعل پیدا کر دیا ہو گئی جس سے تو مقبول جہاں بن گئے رستے ترے فج عمیق عشق میں پھنس کر گیا سارا جہاں یہ شرف تجھ کو ملا اس ذات سے جس کو کہتے ہیں مسیحائے زماں عیلی ثانی لقب جس کا ہوا ہو گئی اس کے سبب ذی عزّ وشاں ثائی جت بنی جس کے طفیل ہے غلام احمد آخر زماں وہ جو مسجودِ ملائک تھا بشر حمد اُس کی کرتے ہیں کرو بیاں موجود ہوتا ہم میں آج وہ ہمارا شہر یار دو جہاں ہاں اگر کرتے ہم فریاد اُس کے سامنے کیوں نہیں ملتی مسلماں کو اماں چھوڑنے پر ہو گئے مجبور ہم اُس کی اک اک چیز تھی آرام جاں ہم جدائی سے بہت رنجور ہیں کب ہمیں واپس ملے گا قادیاں؟ اس کے ملنے کے لئے مضطر ہیں ہم کب نظر آئے گا سنگِ آستاں؟ انتہائے بے قراری سے مری پہنچے نعرے از زمین تا آسماں کیوں نہیں سنتے نہ دیتے ہو جواب اے مرے پیارے مسیحا ہو کہاں سن کے فرمایا کہ مت ہو بے قرار بعد میرے ہے پسر میرا وہاں جا کے حاضر ہو اُسی دربار میں ہے وہ اب اسرار دیں کا رازداں (روز نامه الفضل 11 جون 1948ء صفحہ 2 نیز 21 مارچ 2014 ء مسیح موعود نمبر صفحہ 6)