کلامِ ظفرؔ — Page 81
145 کلام ظفر آجکل کے چھوڑ دے رسم و رواج بیشتر ان میں ہے بدعت یاد رکھ اپنے اخراجات میں مُسرف نہ بن یہ تو ہے شیطاں کی عادت یاد رکھ اپنی بہنوں کی کبھی غیبت نہ کر یہ بہت گندی ہے عادت یاد رکھ عصمت کو اپنی پاک رکھ قیمتی چادر جوہر ہے عصمت یاد رکھ دل لگا ہر گز نہ اپنا غیر کر نہ خاوند سے خیانت یاد رکھ تو امانت میں کبھی خائن نہ ہو فرض ہے حفظ امانت یاد رکھ اے رشیدہ تو بھی خود غافل نہ ہو کوچ کر جانے کی ساعت یاد رکھ (ماہنامہ مصباح جون 1981 ء صفحہ 5) 146 کلف ظفر بعض یورپین لیڈیز کو بُر تھے میں دیکھ کر بزبان اہلیہ ام) اب طبائع میں ہے پیدا ہو رہا یوں انقلاب جس طرح مشرق سے تا مغرب ہے جاتا آفتاب دور تاریکی گیا اب چاند پھر چڑھنے کو ہے تین دن سے دیکھتی ہوں انسلاخ ماہتاب چھوٹنے والا ہے مغرب شرک کے پھندوں سے اب اب سمجھتا جا رہا ہے خواب کو اپنے وہ خواب یا وہ دن تھے نشہ کے میں وہ خود مخمور تھا یا یہ دن آئے کہ چھڑواتا ہے اوروں سے شراب یا وہ دن تھے میرے برقعے پر تھے لگتے قہقہے یا یہ دن میں پھرتی ہیں خود لیڈیاں پہنے نقاب احمد مدنی میں قرباں جاؤں تیرے نام پر کس قدر پیدا کیا ہے تو نے آکر انقلاب روزنامه الفضل 29 /اکتوبر 2014 ء صفحه (2)