کلامِ ظفرؔ — Page 83
149 کلام ظفر ایک دوست کو فراق قادیان میں روتے دیکھ کر نہ بھر آہیں فراق قادیاں میں نہ ہو مصروف یوں آہ و فغاں میں ترقی پا خدا کے کام بے حکمت نہیں ہیں ہے میرا تو کس گماں میں نہیں سکتے کبھی بھی ہوا پڑیں مومن نہ جب تک امتحاں میں پنپتی ہیں مصائب ہی میں قومیں یہی سنت رہی ہے ہر زماں میں شدائد سے مصائب سے نہ گھبرا یہی تو مرحلے ہیں امتحاں میں جہادِ زندگی عدد ہر کا ایک پہلو مکمل ہو چکا تھا قادیاں میں سُو شکستیں کھا چکا تھا دلائل میں، براہیں میں، بیاں میں جہادِ زندگی زندگی کا دوسرا رخ چمک سکتا نہ تھا دارالاماں میں 150 ضرورت تھی کہ پھر مومن کے جوہر ☆ عیاں ہوں عرصہ تیغ و سناں میں کلام ظفر خدا نے تب اسے باہر نکالا نہ چاہا وہ رہے امن و اماں میں ہمارا قادیاں اک بوستاں ہے ہم اس کی بُوئے خوش ہیں اس جہاں میں یہ فطرت کے مخالف ہے کہ خوشبو رہے محدود صحن گلستاں گلستاں میں وو ہوا پورا نشان داغ ہجرت خدا دیکھا ہے ہم نے اس نشاں میں مقدس داغ“ ہے رہنے دے دل پر نہ اُڑ جائے کہیں آہ و فغاں میں تو سمجھا ہم پراگندہ ہوئے ہیں میرے نزدیک ہم پھیلے جہاں میں ظفر گر ہوں حقیقت ہیں نگاہیں بہاریں ہی بہاریں ہیں خزاں میں ه عرصه معنی میدان روزنامه الفضل 11مارچ 1949 ء صفحہ 4)