کلامِ ظفرؔ — Page 24
31 کلام ظفر کہ اس قسم کے شعر کہنا تو بہت آسان ہے مگر خود کہنے بیٹھے تو کہہ نہ سکے! یعنی وہ شعر جو اتنا آسان ہو کہ فوراً سمجھ میں آ جائے مگر اتنا مشکل ہو کہ اسے اپنے لفظوں میں بیان نہ کیا جاسکے! مکرم مولوی ظفر محمد ظفر صاحب کے ہاں مقصدی شاعری کی فروانی ہے۔بے مقصد قافیہ پیمائی یا تگ بندی نہیں۔خود فرماتے ہیں: یا رب مشاعرے کو نہ اپنا قدم چلے جب تک دماغ لے کے نہ مضموں اہم چلے بے سود شاعری میں نہ اپنا گھے قلم تائید دین حق میں ہمارا قدم چلے! اور یہ رنگ ، تمام احمدی شعراء کا منفر درنگ ہے۔تبلیغ حق ان کا مطمع نظر ہے اس لئے وہ اپنے قلم کی جولانیوں کو اسی مقصد کے لئے وقف رکھتے ہیں۔مکرم ظفر محمد صاحب نے اپنی قدرت کلام کو اس مقصد کے لئے محدود کر رکھا ہے۔انہیں عربی ، فارسی اور اُردو تینوں زبانوں پر قدرت حاصل تھی۔اس لئے ان کے ہاں تینوں زبانوں کی یکجائی کے نمونے ملتے ہیں اور تینوں زبانوں میں علیحدہ علیحدہ طبع آزمائی کے نمونے بھی۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اسی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ ان کا طرز بیان نہایت دل نشین ( ہے ) فارسی ، اردو اور عربی پر برابر دسترس (حاصل ہے)۔مکرم حضرت شیخ محمداحمد صاحب مظہر نے بھی ان خصوصیات کو سراہا ہے کہ: 32 انہیں عربی اور فارسی نظم لکھنے کا بھی ملکہ ہے“ کلام ظفر میرا یہ مقام نہیں کہ میں ان کے فارسی اور عربی کلام پر رائے زنی کروں مگر مجھے ان کے اردو کلام نے ان کی استادانہ چابک دستی کا ادراک عطا کیا ہے۔ان کے عربی اور فارسی کے امتزاج کا ایک نمونہ ان کی وہ نظم ہے جس کا ایک مصرع عربی اور دوسرا فارسی کا ہے: شراب روح پرور بخش ساقی تَكَادُ تَبْلُغُ النَّفْسُ التَّرَاقِى قسم بخدا که صادق پست احمد إِلَى رَبِّ الْعُلَى نِعْمَ الْمَرَاقِى پیام وصل جاناں احمدیت تُبَشِّرُنَا بِرَيْحَانِ التَّلاقِى ظفر گرہوش میداری تَوَكَّلُ عَلَى اللَّهِ الَّذِي حَيٌّ وَّ بَاقٍ اب ہمارے ہاں ایسی چابک دستی سے عربی، فارسی اور اردو تینوں زبانوں کے برتنے والے شاعر کہاں ہیں؟ اب انہیں ڈھونڈ چراغ رُخ زیبا لے کر نے لکھنے والوں کے لئے مکرم مولوی صاحب کا کلام بہر حال مشعل راہ رہے گا اور انہیں الفاظ کو برتنے کا سلیقہ سکھانے کا موجب بنے گا ! الفضل انٹر نیشنل 9 جون 1995 ، صفحہ 10)