کلامِ ظفرؔ

by Other Authors

Page 23 of 194

کلامِ ظفرؔ — Page 23

29 کلام ظفر خلائق ہونے کا شرف حاصل کر لیا۔اس مرکز کے تبلیغ اسلام کی کوششیں جاری ہو گئیں۔اس مرکز کے ساتھ بھی مولوی صاحب کی وابستگی اسی طرح پختہ اور مستحکم رہی۔1973ء میں سیلاب آیا۔آغا شورش کا شمیری نے نظم لکھی۔ربوہ مٹے گا قہر الہی بالضرور تاخیر ہو گئی ہے خدا کے عذاب میں! اس زور دار نظم کا جواب مولوی ظفر محمد صاحب ظفر نے اس سے بھی زیادہ زور دار اور شان دار الفاظ میں لکھا۔آغا ہے آج جانے کیوں پیچ و تاب میں دل اس کا بے قرار ہے ، جاں اضطراب میں کوئی یہ اس سے پوچھے کہ اے بے ادب بتا! گستاخیاں یہ کیسی ہیں ربوہ کے باب میں ! ربوہ کے پاؤں چوم کر جاتا ہے کیوں گزر! پاس ادب ہے گویا کہ آب چناب میں ! نادان تیرے دل میں تعصب کی آگ ہے تو جل رہا ہے بغض وحسد کے عذاب میں! مولوی صاحب کی یہ نظم اپنے اندر سیلاب کی سی روانی رکھتی اور شورش کا شمیری کی نظم کا مسکت جواب ہے۔30 کلام ظفر سیلاب کے ذکر سے اپنے تنویر صاحب مرحوم کا ایک قطعہ بھی ذہن میں گھوم رہا ہے مگر افسوس کہ اس کے لفظ مستحضر نہیں۔مضمون کچھ یوں تھا کہ سیلاب جھوم جھوم کر آگے گزر گیا ؟ اور چوتھا مصرع بڑا جستہ تھا کہ پانی ربوہ کے پاؤں چوم کر آگے گزر گیا! بیانیہ مکرم مولوی صاحب کے ہاں بیانی نظمیں بہت ہیں اور بیا نیہ نظمیں لکھنے کے لئے زبان پر قدرت کا ہونالازمی امر ہوتا ہے۔مثلاً یہ نظم جامعہ احمد یہ احمد نگر کے ان فارغ التحصیل مہمانوں کی تقریب میں پڑھی گئی جو 1955ء میں جامعہ میں تشریف لائے تھے۔اے طالبان علم دبستان جامعه دیکھو انہیں جو آج ہیں مہمان جامعہ ظاہر ہیں قوم قوم میں آثار زندگی جاری ہے ملک ملک میں فیضان جامعہ لیکن وہ علم موت ہے جس میں عمل نہ ہو نکتہ رہے یہ یاد عزیزان جامعه! کیا صاف ستھری، سادہ، شستہ اور رفتہ زبان ہے۔اسی لئے تو شیخ محمد احمد صاحب مظہر نے لکھا ہے ان کا اسلوب کلام ، سلاست اور روانی محاورہ اور بندش کی خوبی اور فن شاعری کے لحاظ سے قابل قدر تصنیف ہے اور بہت سی نظمیں اپنی خوبی کے لحاظ سے سہل ممتنع ہیں۔سہل ممتنع ادب کی اصطلاح ہے اور ایسے کلام کے بارے میں استعمال کی جاتی ہے کہ ہر پڑھنے والا سمجھے