کلامِ ظفرؔ — Page 25
33 کلام ظفر حضرت مولانا ظفر محمد صاحب ظفر کی یاد میں مکرم محمد نواز مومن صاحب) علم وادب کے بحر ذخار، ثبات و استقامت کے کوہسار، خاک راہ احمد مختار، بلوچی روایات کے مطابق مہمان نواز ، بلا کے ذہین ، فقیر طبع عربی ، فارسی اور اردو زبان کے عدیم النظیر شاعر، خاندان کی وجاہت اور اپنے کردار کی نجابت کے اعتبار سے ایک ایسے انسان تھے جو اس کرہ خا کی پر صدیوں کے بعد پیدا ہوتے ہیں۔یہ تھے میرے جلیل القدر استاد حضرت مولانا ظفر محمد صاحب ظفر دیدہ پرنم کے ساتھ چند ایسے واقعات سپر و قلم کر رہا ہوں جو ان کی وسعت علمی، اخلاقی بلندی اور حق گوئی پر روشنی ڈالتے ہیں۔ڈاکٹر غلام جیلانی برق کے چیلنج کا جواب ڈاکٹر غلام جیلانی برق کا نام محتاج تعارف نہیں ، آپ نے جماعت احمدیہ کو بھی اپنی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ” حرف محرمانہ کے نام سے ایک کتاب جماعت کے خلاف لکھی ہے اور اس میں بے جا تعلی سے کام لیتے ہوئے ایک چیلنج بھی دیا ہے۔ہمارے خیال میں اگر برق صاحب وہ چیلنج نہ دیتے تو ان کی علمیت اور تنقیدی صلاحیتوں کا بھرم قائم رہتا۔اس چیلنج نے ان کی لٹیا ہی ڈبو کر رکھ دی ہے۔برق صاحب نے اپنے چیلنج میں لکھا ہے کہ دنیا کی کسی زبان میں کوئی ایسا مضاف موجود نہیں جو مضاف الیہ کا مالک ہو اور پھر آپ نے ایک لمبی فہرست دے کر اپنے چیلنج کو مبرہن کیا ہے۔34 کلام ظفر مجھے اچھی طرح یاد ہے اور یہ 1955ء کی ایک سرد صبح کا واقعہ ہے، استاذی المحترم میر کمرے میں تشریف لائے اور فرمایا کرسی دھوپ میں رکھ دو، ہمیں ایک چیلنج کا سامنا ہے اور میں اس کا جواب لکھنا چاہتا ہوں، میں نے صحن میں کرسی رکھ دی اور آپ برق صاحب کے چیلنج کا جواب تحریر کرنے لگے آپ نے برق صاحب کو لکھا۔میں نے آپ کے چیلنج کا بغور مطالعہ کیا ہے اور اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ آپ کو قرآن کریم کا قطعاً کوئی مطالعہ نہیں ہے۔اگر چیلنج دینے سے پہلے آپ قرآن کریم کا مطالعہ کرتے تو اس کا جواب اس میں آپ کو مل جاتا اور یہ زحمت آپ کو نہ اٹھانا پڑتی۔آپ نے لکھا ہے کہ دنیا کی کسی زبان میں ایسا کوئی مضاف نہیں جو مضاف الیہ کا مالک ہو۔آپ ذرا سورہ فاتحہ کا مطالعہ کیجئے اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔رب العالمین اس میں رب مضاف ہے اور العالمين مضاف الیہ ہے اور رب جو مضاف ہے، وہ العالمین کا مالک اور خالق ہے۔پھر فرماتا ہے مالک یوم الدین اس میں مالک مضاف ہے اور یوم الدین مضاف الیہ ہے۔اس میں بھی مضاف، مضاف الیہ کا مالک اور خالق ہے۔پھر آپ نے رب الناس، ملك الناس، اله الناس، رب الفلق وغیرہ آیات کی بیشمار مثالیں پیش کر کے انہیں لکھا کہ آپ مجھے اس کا جواب دیں۔آپ نے برق صاحب کو رجسٹر ڈ لیٹر لکھا اور اس کی وصولی کی رسید بھی آپ کو بذریعہ ڈاک موصول ہوئی۔استاذی المحترم نے برق صاحب کو ایک شعر بھی لکھا۔جو تو دل لگا کے پڑھ لے سخن ہائے عارفانہ تجھے بھول جائے یکسر تیرا حرف محرمانہ برق صاحب نے مولوی ظفر صاحب کے اس علمی محاسبہ کا جواب نہ دیا لیکن اپنی کتاب رمزایمان سال اشاعت 1976ء میں ضمیمہ نمبر 1 میں اعترافات کے زیر عنوان اپنے بعض نظریات میں تبدیلی کا اعتراف کیا اور علمی لغزش کے عنوان سے اپنی بعض کتابوں کی کچھ اغلاط کو بیان کیا ہے،