کلامِ ظفرؔ — Page 14
13 کلام ظفر 14 کلام ظفر مزید برآں میں اپنے بھتیجے مکرم آصف احمد ظفر صاحب ابن برادرم محترم ناصر احمد ظفر صاحب کا تہہ دل سے ممنون ہوں کہ جنہوں نے جماعت کے پرانے اخبارات اور رسائل سے حضرت ابا جان کا کچھ ایسا کلام تلاش کیا ہے جو اس سے قبل ” کلام ظفر“ کی زینت نہیں بنا تھا۔کچھ حضرت خلیفہ امسیح الثالث کے ارشاد پر ایسی نظموں کو بھی مکمل کیا جو کلام ظفر میں شامل تو تھیں لیکن نامکمل تھیں نیز فارسی حصہ میں پہلے سے موجود فارسی نظموں کے تراجم کے علاوہ نئی شامل ہونے والی عربی نظموں کے بھی تراجم کروائے۔اور یہ بھی کوشش کی گئی ہے کہ ممکن حد تک تمام نظموں کے حوالہ جات درج کر دیئے جائیں۔نیز نظموں کی ترتیب کو بھی پہلے سے بہتر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔عزیزم آصف نے پہلے دوایڈیشنوں کی کمی کو دور کیا اور پروف کی غلطیوں کی نشاندہی کی اور بڑی محنت ،شوق اور توجہ کے ساتھ اس کی تیاری اور تکمیل کی اللہ تعالیٰ اُسے بے بہا فضلوں سے نوازے۔آمین علاوہ ازیں خاکسار اپنی اہلیہ محترمہ جو کہ جرمن احمدی ہیں اور الحمد للہ جماعتی خدمت کی بھی توفیق پا رہی ہیں اُن کے لئے اور اپنی اولاد کے لئے بھی خصوصی طور پر دعا کی درخواست کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سب کو مقبول خدمت دین کی توفیق عطا فرمائے اور ان کو اپنے بزرگوں کی نیک روایات کو برقرار رکھنے والا بنائے۔اور مجھے ابا جان کی ان دعاؤں کا حقیقی وارث بنائے جو انہوں نے اپنی ایک نظم میں میرے متعلق کی ہیں۔(آمین ) اللہ تعالیٰ والد صاحب مرحوم کی ساری اولاد اور سارے خاندان کو ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے۔اور ہمیشہ احمدیت کے پرچم کو بلند سے بلند تر کرنے والے ہوں۔آمین آخر پر میں مکرم و محترم پروفیسر محمد سلطان اکبر صاحب اور عطاء الکریم منظور صاحب مربی سلسلہ کے غیر معمولی تعاون کا بے حد شکر گزار ہوں۔کہ جنہوں نے کچھ عربی اور فارسی نظموں کے تراجم کر کے دیئے نیز خاکسار مکرم محمد مقصود احمد صاحب مربی سلسلہ کا بھی شکر گزار ہے کہ جنہوں نے بڑی محبت اور محنت کے ساتھ سارے کلام کو دیکھا اور اپنی قیمتی آراء سے نوازا۔فجزاهم الله احسن الجزاء۔(28فروری2015ء) خاکسار طاہر احمد ظفر عربی اعظم لکھنے کی توفیق ينظم (اردو) جس کا پہلا شعر " فلک سے آئی صدا لا اله الا اللہ “ مکرم عبدالمنان صاحب ناہید کی ہے جو جلسہ سالانہ 1980 ء کے موقع پر ربوہ میں پڑھی گئی تھی۔اُس 1ء جلسه سالانہ میں شمولیت کے لئے سیرالیون کے وزیر مملکت اور سیرالیون مسلم کانگرس کے سربراہ آنریبل الحاج سنوسی مصطفیٰ جنہوں نے 27 دسمبر 1980ء کو دوسرے سیشن میں احباب جماعت سے خطاب بھی کیا۔حضور نے ان کو جلسہ سالانہ میں شرکت کے لئے مدعو کیا تھا۔( وہ احمدی نہیں تھے ) ( بحوالہ الفضل 3 /جنوری 1981ء) جس وقت نظم مذکورہ پڑھی گئی تو وزیر موصوف بھی سُن رہے تھے۔موصوف نے حضرت خلیفہ امسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ سے اس اُردو نظم کو عربی منظوم کلام میں ڈھالنے کی خواہش کا اظہار کیا۔جس پر حضور نے بوقت ملاقات جنوری 1981 ء کے پہلے ہفتہ میں میرے بڑے بھائی مکرم مبارک احمد ظفر صاحب سے ارشاد فرمایا’ اپنے ابا سے کہیں کہ عبدالمنان صاحب ناہید کی اُردو نظم جو جلسہ سالانہ پر پڑھی گئی ہے اُس کا عربی منظوم تیار کریں۔لہذا والد صاحب محترم نے ناسازی طبع کے باوجود ارشاد کی تعمیل شروع کر