کلامِ ظفرؔ — Page 123
(229 کلام ظفر نہ وہ خالد بن ولید ہے، نہ وہ ، نہ وہ فتح ملک جدید ہے نہ وہ دشمنوں کو وعید ہے، نہ وہ رعب ہے نہ وقار ہے نہ وہ رنگ فتح و ظفر رہا، نہ عدو کو کوئی خطر رہا نہ کسی پہ میرا اثر رہا، نہ کسی میں میرا شمار ہے گئے ہاتھ سے مرے ملک سب نہیں پاس اپنے رہا کچھ اب فقط ایک ہیں عجم و عرب، مگر ان کا حال بھی خوار ہے مرے رب وہ میری خطا ہے کیا ، تو ہے جس سے مجھے پہ خفا ہوا میں وہی ہوں مسلم با وفا، تجھے مجھ سے کیسا نقار ہے مرا باغ دین اُجڑ گیا، مرا کاروبار بگڑ گیا !! مرا کارواں ہے بچھڑ گیا، مری آج حالتِ زار ہے 230 کلام ظفر نہ ہوا نزول مسیح کا، نہ ہوا امام ہی رونما کوئی آج اپنا نہیں رہا، ظلمات ہیں شب تار ہے یہی شکوہ میرا تھا مشتہر، تو ندا یہ آئی کہ اے ظفر تو بگو به مسلم بے خبر، کہ عبث یہ تیری پکا رہے میں بتاؤں کیا وہ خطا ہے کیا ہمیں ہوں جس سے تجھ پہ خفا ہوا اگر ایک ہو تو میں دوں بتا، نہیں ان کا کوئی شمار ہے ترے دل میں خوفِ خدا نہیں تجھے یاد روزِ جزا نہیں ترے لب پہ حرف دعا نہیں، تجھے اس جہاں سے پیار ہے تری طرز طرز یہود ہے، تری وضع وضع ہنود ہے تو سمجھتا سُود میں سُود ہے ، کوئی تجھ میں دیں کا شعار ہے؟ کیا یہ تو نے پہلے کہا نہیں، کہ کبھی بھی ہو گے فنا نہیں کیا ترک صوم و صلوۃ کو، دیا چھوڑ حج و زکوۃ کو! گیا بھول وقت ممات کو، نہ ہی یاد روز شمار ہے تجھے یاد بھی ہے کہ یا نہیں، کوئی ہم سے قول و قرار ہے ترے نیچے وعدے وہ کیا ہوئے نہیں آج تک جو وفا ہوئے کبھی جائے تو جو سُوئے حرم، تو ہزار دل میں لئے صنم نہیں ہم تو تجھ سے جُدا ہوئے ، تجھے ہم سے کیسا نقار ہے ہے زباں سے کہنا کرم کرم، ترا دل بتوں کا شکار ہے