کلامِ ظفرؔ — Page 124
231 کلام ظفر نہیں بھیجا میں نے امام کیا؟ کیا تو نے اس کو سلام کیا ہے یہی وفا کا مقام کیا؟ کہ مرے ولی سے نقار ہے ہے اسی کے دم سے بہار دیں، ہے یہی مسیح مزارِ دیں ہے اسی پہ دارو مدار دیں، یہی تیرا حصن و حصار ہے مری جس پہ لاکھ ہیں رحمتیں، کرے اس پہ لاکھ تو لعنتیں کروں کیوں میں تجھ پہ عنایتیں، ترا ظلم و جور شعار ہے جو مری نظر میں لعین ہے، وہی تیرے دل کا قرین ہے تجھے مجھ یہ خاک یقین ہے، وہی تیرا دل بر و یار ہے اگر آج بھی اسے مان لو تو وہ پہلی شوکت و شان لو 232 کلام ظفر میں احمدی ہوں اور مجھے اس پہ ناز ہے دونوں جہاں کے عیش سے وہ بے نیاز ہے جو دل کہ اس کی یاد میں وقف گداز ہے دنیائے بے ثبات حقیقت تھی خواب میں کھولی جو آنکھ دیکھا حقیقت مجاز ہے جو اس کی ذاتِ پاک کے جو کچھ ہے بیچ ہے حقانیت ہے جس میں وہی بے نیاز ہے نہیں بلکہ دونوں جہان لو، یہ ازل سے پایا قرار ہے زندہ ہیں بس وہی جو مٹے اس کی راہ میں لویا نہ ہونا، ہونے کا ہستی کا راز ہے نہ تو مجھ کو تجھ سے نقار ہے نہ تیرے عدد سے پیار ہے مجھے بس اسی سے پیار ہے، جسے میرے پیاروں سے پیار ہے زمانہ طالب علمی رسالہ جامعہ احمدیہ اکتوبر 1930ء صفحہ 39،38،37) آئینہ دل کا توڑنا ہے اُس کا جوڑنا ہاں کیوں نہ ہو کہ خواہش آئینہ ساز ہے اہل وطن جو چاہو کہو تم مجھے مگر میں احمدی ہوں اور مجھے اس ناز ہے