کلامِ ظفرؔ

by Other Authors

Page 122 of 194

کلامِ ظفرؔ — Page 122

(227 خطاب به ساقی اگر ساقی پلا دے تو مجھے اک جام عرفاں کا تو پھر جھگڑا ہی مٹ جائے خودی کا نفس و شیطاں کا کلام ظفر زمانے میں چلے ایسی ہوا مہر و محبت کی کہ مخمور مئے اُلفت ہو دل ہر اک مسلماں کا گلستان محمد میں چلے بادِ بہاری پھر کھلے تازہ بتازہ تو بہ کو ہر پھول بستاں کا شپ تاریک پھر بدلے ضیاء صبح صادق - ہو وظلمت دُور دنیا کی چڑھے پھر چاند کنعاں کا مئے توحید سے مخمور ہو پھر حضرتِ انساں نشاں مٹ جائے دنیا سے ضلال و شرک و عصیاں کا خدایا پھر خلافت کو عطا پہلی سیاست ہو ظفر کا پھر اُڑے پرچم زمانے میں مسلماں کا (مطبوعہ رسالہ جامعہ احمدیہ اکتوبر 1930 ء صفحہ 25) 228 بارگاہِ ایزدی میں مسلم کی فریاد اور اس کا جواب کلام ظفر نہ وہ باغ ہے نہ بہار ہے، نہ وہ پھول ہیں نہ ہزار ہے نہ رہی وہ صحبت یار ہے، جو رہا ہے کچھ تو وہ خار ہے نہ وہ شمع بزم کی کو رہی، نہ مگس کی وہ تگ و دو رہی نہ وہ سوز ہے نہ وہ ضو رہی، نہ وہ نور ہے نہ وہ نار ہے نہ شراب ہوش ربا رہی، نہ صدائے ساقیا لا رہی! نہ وہ ئے کشوں کی ادا رہی، نہ وہ کیف ہے نہ خمار ہے نہ وہ پہلی سی ہیں عنایتیں، نہ قرار دہ وہ بشارتیں نہ وہ میٹھی میٹھی حکایتیں، نہ وہ لطف ہے نہ وہ پیار ہے نہ وہ شوکت عمران ہے، نہ وہ دولت عثمان ہے نہ علی کی حیدری شان ہے، ہوا سب رہینِ مزار ہے یعنی حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہا