کلامِ ظفرؔ — Page 12
9 کلا ظفر اگر اس کو اس طرح چیرا جائے تو یہ خر اس کے دو پاٹ بن جائیں گے اور اس تصور کے بعد میں آگے چلا گیا۔چند لحوں کے بعد جب میں واپس آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی پتھر بعینہ اسی طرح چیرا پڑا تھا جس طرح میں نے تصور کیا تھا۔(2) مسمریزم کا دوسرا واقعہ : ایک دفعہ 14 ،15 سال کی عمر میں ایک سنسان ویرانے میں سے گزر رہے تھے کہ ایک خانہ بدوش قوم کا ایک بھیانک اور خونخوار کتا آپ کی طرف دوفر لانگ کے فاصلہ سے لپک کر آیا۔گتے کے مالک نے زور سے آواز دی کہ بھاگ جاؤ ورنہ یہ تمہیں کھا جائے گا۔مگر بھا گنا بے سود تھا۔آپ گتے کی طرف منہ کر کے کھڑے ہو گئے اور گتا دو تین گز کے فاصلہ پر آکر یکدم رک تو گیا مگر زور سے غر ا تا اور دم مارتا رہا اور آپ آنکھ جھپکے بغیر ٹکٹکی لگا کر اُسے گھورتے رہے۔ایک دومنٹ کے بعد گنتے نے چیخ ماری اور پیچھے گر پڑا اور جب گھر کی طرف بھاگنے لگا تو بار بار چیخ مار کر منہ کے بل گر پڑتا تھا۔(3) ایک دفعہ آپ اپنی ایک رشتہ دار خاتون کے ساتھ چلے جا رہے تھے کہ سامنے سے ایک بارہ تیرہ سال کا لڑکا دُور سے آتا ہوا نظر آیا۔آپ نے اُس خاتون سے کہا۔میں نے ایک نظارہ دیکھا ہے۔وہ یہ ہے کہ اس لڑکے نے آپ سے مذاق کیا ہے اور میں نے اسے تھپڑ مارا ہے۔اُس خاتون نے کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ کچھ دیر کے بعد جب وہ لڑکا قریب آیا تو اُس نے خاتون سے مذاق کیا اور آپ نے اس پر اُسے تھپڑ لگا دیا۔(4) ایک رات قادیان میں ایک احمدی کے گھر سے بہت سے قیمتی زیورات کی چوری ہو گئی۔آپ بٹالہ جانے کے لئے ریلوے اسٹیشن پر پہنچے تو وہاں ایک شخص نے آپ کی طرف دیکھا اور آپ نے اُس کی طرف دیکھا تو آپ کو یقین ہو گیا کہ یہی شخص چور ہے۔آپ نے پولیس کو اطلاع دے دی۔چنانچہ بعد میں چوری ثابت ہوگئی اور وہ شخص قید ہو گیا۔(5) پاکستان بننے پر جب ہندوستان میں مسلمانوں کا قتلِ عام شروع ہو گیا اور قادیان کے گردونواح میں بھی خطرہ لاحق ہو گیا۔مرکز نے آپ کو کسی کام کے سلسلہ میں ملتان ڈویژن 10 کلام ظفر جانے کا حکم دیا۔آپ نے درخواست دی کہ مجھے اجازت دی جائے میں اپنے بیوی بچوں کو بھی ساتھ لے جاؤں۔اس پر اجازت تو مل گئی لیکن مشکل یہ پیش آئی کہ آپ کے پاس اپنے بیوی بچوں کو ساتھ لے جانے کے لئے کرایہ نہ تھا۔لہذا آپ ساری رات نوافل پڑھتے رہے اور رو رو کر دعائیں کرتے رہے اور جب صبح کی نماز کا وقت قریب ہونے کو تھا تو آپ کو سجدہ میں زور سے ایک آواز آئی هُوَ الَّذِي أَحْيَاكُمُ بَعْدَ مَا أَمَاتَكُمْ “ یعنی خدا نے تمہیں موت کے بعد زندگی بخش دی۔چنانچہ جب صبح ہوئی آپ نے اپنے بیوی بچوں سے کہا کہ آپ خدا تعالیٰ کے فضل سے بخریت پاکستان پہنچ جائیں گے۔اللہ تعالیٰ کرایہ کا بھی انتظام کر دے گا۔پھر تھوڑی دیر بعد کسی نے دروازہ پر دستک دی۔آپ دروازہ پر پہنچے تو ایک شخص نے آپ کو پچاس روپے دیئے اور کہا یہ رقم حضرت مرزا شریف احمد صاحب نے آپ کو بھیجی ہے اور فرمایا ہے اگر مزید ضرورت ہو تو اور بھی منگوالیں اور اس طرح خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے ساری مشکلات حل کر دیں۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِکَ۔(6) ایک دفعہ آپ حکیم غیر واسطی صاحب کے پاس بیٹھے تھے اور طب کے موضوع پر باتیں ہو رہی تھیں کلونجی کی بات چھیڑی تو آپ نے کہا کہ اس کے نام کے اندر ہی اس کی افادیت بیان ہے۔حکیم صاحب نے دریافت کیا وہ کیا ؟ اس پر آپ نے کہا کہ یہ لفظ گل اور نجا سے مرکب ہے یعنی کھا اور بیماری سے نجات پا جا۔حکیم صاحب مرحوم نے اس نکتے پر بڑی تحسین کی اور دیر تک جھومتے رہے۔ہمارے والد محترم اپنی طبیعت کے لحاظ سے ایک خوش مزاج، سادگی پسند، نام و نمود سے متنفر ، دنیا طلبی سے بے نیاز مستغنی مزاج اور بچوں سے پیار کرنے والے بزرگ ہیں۔ایک دفعہ مالی تنگی کے ایام میں آپ نے اللہ تعالیٰ سے ہیں روپے مانگے۔اللہ تعالیٰ نے ہیں روپے تو دے دیئے لیکن ساتھ ہی خواب میں ایک ایسا نظارہ آپ کو دکھایا جس کا مقصد یہ تھا کہ مجھ سے یہ چیز کیوں مانگتے ہو؟ مجھ سے میرافضل مانگو۔غالباً یہی وجہ ہے کہ میں نے ہمیشہ، خواہ