کلامِ ظفرؔ — Page 11
7 کلام ظفر آپ نے تحقیق کے بعد جو فیصلہ حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت میں پیش کیا حضور اُس سے بے حد خوش ہوئے اور فر مایا دنیا کا کوئی قاضی اس سے بہتر فیصلہ نہیں دے سکتا۔یہی وجہ تھی کہ بعد میں حضور نے آپ کو مستقل قاضی مقرر فرما دیا۔ایک دفعہ بٹالہ کے دو دوستوں کا قضیہ قادیان دارالامان میں آیا۔پہلے کچھ عرصہ دفاتر میں چلتا رہا پھر قضاء میں آیا۔پہلے ایک قاضی نے فیصلہ کیا، پھر دو قاضیوں نے فیصلہ کیا، پھر تین قاضیوں کے بورڈ میں پیش ہوا جس میں آپ بھی شامل تھے۔دفاتر اور جملہ قاضیوں کا فیصلہ مدعی کے حق میں تھا لیکن آپ نے اُن سب فیصلوں سے اختلاف کیا اور الگ اپنا فیصلہ لکھا۔اس پر حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت میں اپیل ہوئی۔حضور نے اسی ضمن میں جناب شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ کو جو بعد میں ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے لاہور سے بلو ایا اور آپ کا فیصلہ دکھایا۔محترم شیخ صاحب نے آپ کے دیئے ہوئے فیصلہ کی تائید فرمائی اور حضور نے اسی فیصلہ کو نافذ فرما دیا۔اس فیصلہ کے پڑھنے کے بعد محترم شیخ صاحب موصوف نے فرمایا کہ میں اس نوجوان کو دیکھنا چاہتا ہوں۔چنانچہ آپ جب شیخ صاحب موصوف سے ملے تو اُنہوں نے آپ کو مبارک با داور داد دی۔مارچ 1939ء میں آپ کو اپنے وطن ضلع ڈیرہ غازی خان جانا پڑا اور مارچ 1944ء تک آپ وہیں رہے۔اس عرصہ میں آپ نے ادیب فاضل، منشی فاضل اور ایف اے کے امتحانات پاس کئے۔1944ء میں آپ کو جامعہ احمدیہ میں پروفیسر لگا دیا گیا۔آپ 1956ء تک جامعہ احمدیہ میں پڑھاتے رہے۔پھر آنکھوں کی تکلیف کے باعث درس تدریس کا سلسلہ جاری نہ رکھ سکے۔اور قضاء میں وکالت شروع کر دی۔کسی کا وکیل بننے سے پہلے آپ خود تسلی کر لیتے تھے کہ آیا موکل حق پر ہے یا نہیں اور اگر کسی کو حق پر نہ پاتے تو اُس کی وکالت کرنے سے انکار کر دیتے تھے۔آپ 1964ء تا 1966ء کراچی میں رہے اور وہاں مکرم و محترم چودھری احمد مختار 8 کلام ظفر صاحب امیر جماعت کراچی کی خواہش پر حضرت بانی جماعت احمدیہ کی عربی کتب کا اُنہیں اُردو میں ترجمہ کر کے دیا۔واپس آکر آپ نے ایک کتاب بعنوان ”معجزات القرآن تصنیف فرمائی (جو کہ 2001ء میں چھپ چکی ہے۔) جس کی بعض اہم اور بزرگ ہستیوں نے بہت تعریف فرمائی جن میں حضرت چودھری محمد ظفر اللہ خان صاحب، حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب، حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظہر ایڈووکیٹ اور حضرت مرزا عبدالحق صاحب ایڈووکیٹ صوبائی امیر خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔آپ کی دیگر کتب کی تفصیل (1) حروف مقطعات کی حقیقت (2) ” قرآن زمانے کے آئینہ میں ( 3 ) ” ہمارا قرآن اور اس کا اسلوب بیان یہ تینوں کتب ابھی تک طبع نہیں ہو سکیں۔اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو کچھ عرصہ کے بعد شائع ہو جائیں گی۔(4) سوانح صوفیا (شائع شدہ 1951ء) 1975ء میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے محترم مولانا صادق صاحب کو سورۃ کہف کی اردو تفسیر جو حضرت مصلح موعودؓ نے لکھی تھی۔اُس کا عربی میں ترجمہ کرنے کا ارشاد فرمایا ساتھ ہی ابا جان کو بھی ان کی مدد کے لئے مقرر کیا گیا۔آپ کا زیادہ تر لگا ؤ قرآن شریف سے ہے اور قرآنِ شریف ہی کے بارے میں مضامین لکھواتے رہتے ہیں جو وقتا فوقتع الفضل میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔آخر میں آپ کی زندگی کے چند ایسے واقعات پیش کرتا ہوں جو آپ کی ذہانت ،فراست، راست بازی اور توکل علی اللہ کے آئینہ دار ہیں۔کافی عرصہ پہلے کی بات ہے آپ نے ایک دفعہ ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے خاص مسمریزم کی قوت ودیعت کی ہوئی ہے لیکن میں نے کبھی اس کی مشق نہیں کی۔پھر آپ نے اپنے بچپن کے دو واقعات سنائے۔پہلے دونوں واقعات مسمریزم ہی سے متعلقہ ہیں۔(1) آپ نے بتایا جب میں دس گیارہ برس کا تھا تو پہاڑ کے دامن میں ایک بہت بڑے پتھر پر میری نظر پڑی میں اس کے پاس کھڑا ہو کر اُسے دیکھنے لگا اور دل میں خیال آیا کہ