کلامِ ظفرؔ — Page 10
5 کلام ظفر چنا نچہ آپ نے سابقہ روایات کے پیش نظر جہاد کی غرض سے تلوار خرید رکھی تھی۔1901ء میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کی آواز آپ تک پہنچی تو آپ مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو گئے اور جو نمازی آتا اُسے کہتے حضرت امام مہدی علیہ السلام آگئے ہیں۔لہذا اُن کی بیعت کے لئے اپنا نام لکھوا دو۔سو ہر نمازی نے اپنا نام لکھوا دیا اور اسی سال آپ کو پہلے تحریری پھر 1903ء میں اپنے تمام ساتھیوں سمیت قادیان جا کر دستی بیعت کا شرف حاصل ہوا۔آپ کی بیعت کا اعلان 24 ستمبر 1901ءالحکم کے صفحہ 12 پر موجود ہے۔اس طرح یہ چھوٹی سی بستی حضرت بانی جماعت احمدیہ کے غلاموں کا گہوارہ بن گئی۔ان بزرگوں کے حالات الفضل میں شائع ہو چکے ہیں۔آپ نے اپنے چوتھے فرزند یعنی ہمارے ابا جان کو بعمر 13 سال قادیان بھجوادیا۔آپ 23 مارچ 1921ء کو قادیان پہنچے اور مدرسہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔آپ کی ذہانت کا یہ حال تھا کہ ایک سال میں دو جماعتوں کا امتحان دیا اور حافظہ اس پایہ کا تھا کہ جو کچھ پڑھتے زبانی یاد ہو جاتا۔غالباً 1923 ء میں صاحبزادہ میاں ناصر احمد صاحب موجوده امام جماعت احمد یہ ایده اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بھی مدرسہ احمدیہ میں داخل ہوئے اور اس طرح ابا جان کو آپ کے ہم جماعت ہونے کا شرف حاصل ہو گیا۔1929ء میں والد صاحب بیمار ہو گئے۔آپ کے اساتذہ نے آپ کو مشورہ دیا کہ آپ اس سال مولوی فاضل کا امتحان نہ دیں لیکن آپ نے کہا مجھے اجازت دے دیں میں انشاء اللہ تعالیٰ فیل نہیں ہوں گا۔چنانچہ آپ مولوی فاضل میں اچھی پوزیشن لے کر کامیاب ہو گئے۔اور حضرت میاں صاحب بھی نہایت شاندار پوزیشن لے کر کامیاب ہو گئے۔31-1930 ء تک والد محترم جامعہ احمدیہ میں داخل رہے۔جہاں سے آپ نے رسالہ ”جامعہ احمدیہ کے دو شمارے نکالے جن میں سے ایک سالانہ نمبر دسمبر 1930ء تھا جو بے حد مقبول ہوا۔جامعہ احمدیہ سے مبلغین کلاس پاس کرنے کے بعد 17 جولائی 1931ء کو آپ کا نکاح صوبیدار میجر حضرت ڈاکٹر ظفر حسن صاحب رفیق حضرت مسیح موعود کی 6 کلام ظفر صاحبزادی محترمہ رشیدہ بیگم صاحبہ سے ہوا۔ہماری امی جان ایک فرشتہ سیرت ، نیک فطرت اور دعا گو خاتون ہیں۔اللہ تعالیٰ اُن کا سایہ تا دیر ہمارے سر پر قائم رکھے۔آمین محترم والد صاحب جامعہ احمدیہ سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد بہاولپور میں بطور مبلغ متعین کئے گئے۔حضرت مولانا غلام احمد صاحب اختر جو کہ حضرت خواجہ غلام فرید صاحب سجادہ نشین کے پرائیویٹ سیکرٹری تھے اُن دنوں بہاول پور میں مقیم تھے۔ایک دن اُنہوں نے آپ سے کہا۔”مولوی صاحب آپ قادیان سے تشریف لائے ہیں مجھے ایک فتویٰ دیں۔اس وقت میری عمر اسی سال ہے۔کیا میں روزہ رکھوں یا نہ؟ آپ نے جواب دیا۔”آپ کے چھوٹے بچے کی عمر کتنی ہے؟ انہوں نے جواب میں کہا ”سال ڈیڑھ سال ہے۔“ اس پر آپ نے کہا ”آپ ضرور روزے رکھیں۔“ اس جواب پر حضرت اختر صاحب مرحوم بہت ہنسے اور فرمایا ”آپ نے مجھے مارڈالا ہے۔“ ย بہاولپور میں آپ تھوڑا عرصہ ہی رہے تھے کہ آپ کو مدرسہ احمدیہ قادیان میں معلم مقرر کر دیا گیا۔1934ء میں آپ حضرت مصلح موعودؓ کے اسٹنٹ پرائیویٹ سیکرٹری اور 1935ء میں پہلے سیکرٹری نیشنل لیگ قادیان مقرر ہوئے۔1937ء میں بطور ناظم کارِ خاص حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب کی زیر نگرانی کام کرتے رہے۔حضرت میاں صاحب کو آپ سے بہت پیار تھا اور آپ پر بہت مہربان تھے اور کبھی کبھی آپ کے گھر پر تشریف بھی لاتے تھے۔آپ 1938 ء تک نصرت گرلز ہائی سکول میں بھی پڑھاتے رہے۔آپ ان تمام کاموں کے ساتھ ساتھ دارالقضاء میں بطور قاضی کے فرائض بھی سرانجام دیتے رہے۔حضرت مصلح موعودؓ نے آپ کو طالب علمی کے زمانہ میں ہی قاضی مقرر کر دیا تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک دفعہ مدرسہ احمدیہ، ہائی سکول اور جامعہ احمدیہ کے طلباء نہر پر گئے وہاں جا کر لڑکوں میں کچھ کشمکش ہوگئی۔اس کی تحقیق کے لئے ایک لڑکا ہائی سکول سے، ایک جامعہ احمدیہ سے اور آپ کو مدرسہ احمدیہ سے لیا گیا۔آپ کو اس سہ رکنی کمیشن کا صدر مقرر کیا گیا۔