کلامِ ظفرؔ

by Other Authors

Page 9 of 194

کلامِ ظفرؔ — Page 9

3 کلام ظفر 4 کلام ظفر پیش لفظ محترم مولانا ظفر محمد صاحب سابق پروفیسر جامعہ احمد یہ ربوہ کی نظموں کا یہ مجموعہ احباب کی خدمت میں پیش ہے۔یہ نظمیں وقتا فوقتا سلسلہ حقہ کے اخبارات ورسائل میں شائع ہوتی رہی ہیں اور بفضلِ خدا مقبول خاص و عام ہو چکی ہیں۔محترم مولانا ظفر محمد صاحب اُردو کے بہت خوش گوشاعر ہیں۔علاوہ ازیں انہیں عربی اور فارسی نظم لکھنے کا بھی ملکہ ہے اور یہ بات خاکسار نے خاص طور پر دیکھی کہ باوجود ایک اعلیٰ شاعر ہونے کے وہ سراپا عجز وانکسار ہیں اور نام و نمود سے بے نیاز۔محترم ظفر محمد صاحب کا اسلوب کلام ، سلاست اور روانی محاورہ اور بندش کی خوبی اور فن شاعری کے لحاظ سے ایک قابل قدر تصنیف ہے اور بہت سی نظمیں اپنی خوبی کے لحاظ سے سہل ممتنع ہیں۔یہ مجموعہ سلسلے کے لٹریچر میں ایک قیمتی اضافہ ہے اور احباب اس مجموعے کو انشاء اللہ دلکش اور مفید پائیں گے۔نظموں میں دینی پہلو کو مد نظر رکھنا اور بے جا مبالغہ سے بچنا جماعت کے شعراء کا ایک امتیاز ہے جو اس مجموعے میں بھی نمایاں ہے۔اللہ تعالیٰ مولانا ظفر محمد صاحب کو جزائے خیر دے اور ان کے اس مجموعہ کلام میں برکت عطا فرمائے۔حضرت مولاناظفر محمد صاحب ظفر تعارف اور جماعتی خدمات (ایڈیشن اوّل) خدا تعالیٰ کا بے حد شکر ہے کہ جس نے اس ناچیز کو والدم بزرگوار محترم ظفر محمد صاحب ظفر کا متفرق کلام جمع کر کے شائع کرنے کی توفیق بخشی۔میں نے چاہا کہ اس مجموعہ کلام کے ساتھ محترم والد صاحب کے مختصر حالات زندگی بھی بغرض تعارف شائع کر دیے جائیں۔سو اللہ تعالیٰ کی توفیق سے مختصر کوائف سپر د قلم ہیں۔آپ 19اپریل 1908ء کو بستی مندرانی میں پیدا ہوئے۔یہ بستی ضلع ڈیرہ غازیخان کے مشہور قصبہ تونسہ شریف کے جنوب مغرب کی جانب چار پانچ میل کے فاصلہ پر کوہ سلیمان کے دامن میں واقع ہے۔آپ کے والد بزرگوار حضرت حافظ فتح محمد خان صاحب مندرانی رفیق حضرت مسیح موعود زمیندار تھے۔آپ اپنے علاقہ میں اپنے علم وفضل کی بدولت مشہور تھے۔آپ عربی اور فارسی زبان کے عالم تھے۔فارسی زبان میں فی البدیہ اشعار کہتے تھے۔اُن کا ایک مجموعہ کلام تھا مگر افسوس کہ وہ ضائع ہو گیا۔آپ مثنوی رومی کا درس دیا کرتے تھے۔سفید ریش پٹھان اور بلوچ آپ کے شاگرد تھے۔آپ کے اُستاد حضرت حافظ میاں رانجھا صاحب ایک صاحب کشف و کرامات بزرگ تھے۔ایک دفعہ انہوں نے آپ سے فرمایا: حافظ صاحب ! میں اس دار فانی سے گزر جاؤں گا اور آپ زندہ ہوں گے کہ امام مہدی علیہ السلام ظہور فرمائیں گے۔انکار نہ کرنا