کلامِ ظفرؔ — Page 77
137 اور کیا معنی ہیں بائیکاٹ کے اس کے سوا یہ کہ دنیا کی کشاکش سے ہوئے آزاد ہم ہو گیا مسمار دل کا بُت کدہ اچھا ہوا خانہ توحید کی رکھنے کو ہیں بنیاد ہم ساری دنیا ہو خفا ہم سے تو کوئی غم نہیں گر رہے تو یاد ہم کو اور تجھ کو یاد ہم کلام ظفر 138 کلام ظفر اس کا ہے نام کفر تو کافر ہیں احمدی ایمان ہے خدا پر خدا کے رسول محکم ا ہے دین کے ہر اک اصول پر دن رات محو رہتے ہیں تسبیح رہتے ہیں تسبیح و حمد میں روتے ہیں زار زار یہ ادنی سی بھول اس کا ہے نام کفر تو کافر ہیں احمدی پابند جان و دل سے ہیں صوم وصلوٰۃ کے تا نہ ہو جائے کہیں ویران یہ گلشن ترا قائل بصد خلوص ہیں حج و زکوۃ کے جو کچھ زبان پر ہے وہی ان کے دل میں ہے آہ تک بھرتے نہیں ہیں دیکھ اے صیاد ہم کاپ اُٹھے گا خدا کا عرش بھی جس سے ظفر گر کریں گے تو کریں گے اس طرح فریاد ہم (روز نامہ الفضل 29 جولائی 1989 صفحہ 2) بچے ہیں اپنے قول کے پکے ہیں بات کے اس کا ہے نام کفر تو کافر ہیں احمدی ختم الرسل کی شان کو پہچانتے ہیں یہ بعد از خدا بزرگ انہیں مانتے ہیں یہ تخلیق کائنات کی غایت وہی تو ہیں اس راز کو سمجھتے ہیں اور جانتے ہیں یہ اس کا ہے نام کفر تو کافر ہیں احمدی