کلامِ ظفرؔ

by Other Authors

Page 76 of 194

کلامِ ظفرؔ — Page 76

135 یہ کیا کہا کہ ربوہ بھی غرق ہو گا بالضرور شاید تو بگ رہا ہے خمار شراب میں ربوہ تو وہ مقام ہے جس کا کہ ذکر ہے اے بے خبر حدیث رسالت مآب میں ہے سارے جہاں کا ملجا و ماویٰ یہی تو قومیں امان پاتی ہیں اس کی جناب میں ربوہ ہے وہ چٹان جو ٹکرایا مٹ گیا اے بے بساط تو ہے بھلا کس حساب میں ربوہ ہی آج کشتی طوفانِ نوح ہے آ جلد ہو سوار نہ ہو غرق آب میں ربوہ کے پاؤں چوم کے جاتا ہے یوں گزر پاسِ ادب ہے گویا کہ آب چناب میں نادان تیرے دل میں تعصب کی آگ ہے مو جل رہا ہے بغض وحسد کے عذاب میں اللہ تجھ کو چشم بصیرت عطا کرے ہے یہ دُعا ظفر کی خدا کی جناب میں کلام ظفر الفضل انٹرنیشنل 8 جولائی تا 14 جولائی 1994 ، صفحہ 2) حَرِّزُ عِبَادِى إِلَى الطُّور۔میرے بندوں کو پہاڑی پر بچا کے لے جا۔136 کلام ظفر بعض مظلوم احمدیوں کی زبان سے جن کا بائیکاٹ کیا گیا گر صداقت کی حمایت میں ہوئے برباد ہم تو نگاہِ یار میں سمجھو ہوئے آباد ہم سختیاں راہِ صداقت میں ہمیں محبوب ہیں طالب شیریں نہیں تلخی کے ہیں فرہاد ہم کر نہیں سکتا جسے مرعوب کوئی سنگ دل رکھتے ہیں پہلو میں اپنے وہ دل فولاد ہم اے خدا ہر گز کسی کے بغض کی پرواہ نہیں گر رہے تو شاد ہم سے اور تجھ سے شاد ہم