کلامِ طاہر — Page 47
میں آر ہی کا ہوں وہ میری زندگی نہیں جس گو آرہی ہے ماہر ، زندگی کے آج نہ کل آپ کے لئے ہی گیتوں کی بازگشت ہے میرے نغمه سرا ہیں دشت فراق گزرا آ جائیے کہ سکھیاں موسم گئے ہم جیسوں کے بھی ظاہر ہوا یہ ہے غمر چین و جیک آپ کے لئے دراز غم کوئی پل آپ کے لئے میل مل کے گائیں گیت ہیں کتنے بدل آپ کے لئے دید کے سامان ہو گئے تھا حُسنِ ازل آپ کے لئے صلی اللہ علیہ وسلم یہ تین شعر اصل نعتیہ کلام کا حصہ نہیں اور غزل کی روایت کے مطابق قافیوں کی رعایت سے الگ مضمون میں الجھ گئے ہیں، اس لئے ان کو نعتیہ کلام کا حصہ نہ سمجھا جائے۔اب حسرتیں کسی ہیں وہاں آرزوؤں نے خوابوں میں جو بنائے محل آپ کے لئے 47