کلامِ طاہر — Page 48
گیر ہیں تمام گھل گئیں جو آرزوئے وصل رکھ چھوڑا ہے اس عقدے کا حل آپ کے لئے گل آنے کا جو وعده تھا آکر تو دیکھتے ، طرح گل آپ کے لئے کس طرح تڑپا تھا کوئی کس 48 (جلسہ سالانہ یو کے ۱۹۸۹ء)
by Hazrat Mirza Tahir Ahmad
گیر ہیں تمام گھل گئیں جو آرزوئے وصل رکھ چھوڑا ہے اس عقدے کا حل آپ کے لئے گل آنے کا جو وعده تھا آکر تو دیکھتے ، طرح گل آپ کے لئے کس طرح تڑپا تھا کوئی کس 48 (جلسہ سالانہ یو کے ۱۹۸۹ء)