کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 190 of 265

کلامِ طاہر — Page 190

حضور پر نور کی لفظوں پر تحقیقات کے دائروں کا اندازہ لگائیے۔آپ نے تحریر فرمایا۔اول تو یہ درست نہیں کہ ایشور سے وزن نہیں ٹوٹتا۔دوسرے جہاں تک ایشر کا تعلق ہے بات یہ ہے کہ قادیان میں ہندی دان احمدی سکالرز سے میں نے چیک کروا لیا تھا اور ان سب نے اس پر صاد کیا۔لغوی لحاظ سے اس کا اصل ایش ہے۔جسے ایس بھی پڑھا جاتا ہے۔دونوں متبادل ہیں۔ہندی اردو لغت میں ان دونوں کا مطلب مالک، خدا، حاکم، بادشاہ، خداوند تعالی دیا گیا ہے۔یہ لفظ ور یا محض در کے اضافہ کے ساتھ بھی مستعمل ہے۔اردو لغت جامع اللغات میں لکھا ہے کہ ایسر دراصل وہ شہر ہے - جہاں سب سے بڑے دیوتا یعنی خدا کی عبادت ہوتی ہے۔چنانچہ یہ مضمون کھول کر جامع اللغات ایئر ، ایشز اور ایشور تینوں لفظ متبادل کے طور پر پیش کرتی ہے۔جن کا مطلب بڑا دیوتا، خدا یا مالک یا خدا تعالیٰ ہے۔اسی طرح ایسر میں ایشر لکھ کر آگے خدا، ایشور ، اللہ معانی دئے ہوئے ہیں۔گویا ایشور کا دوسرا تلفظ ایئر اور ایشر ہے اس لئے کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں ایشر ہی ٹھیک ہے۔چند دن کے بعد آپ کا ایک مکتوب موصول ہوا۔( مكتوب ۲۲۔۱۰۔۹۳ صفحه (۸) میرا گزشتہ خط آپ کو مل چکا ہو گا ایشر کے لفظ پر۔اس میں آپ کی تجویز کی روشنی میں تبصرہ تو کر چکا ہوں۔لیکن اس کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ حضرت اقدس مسیح موعود نے اپنی دو نظموں بعنوان شانِ اسلام میں کوئی ۶ دفعہ اور ہندوؤں سے خطاب میں ۵ مرتبہ لفظ ایشر استعمال فرمایا ہے۔اس شہادت سے تو مزا ہی آگیا ہے۔اس کے بعد تو کسی اور سند کی ضرورت ہی نہیں آپ نے در یمشین کی اتنی عمدہ کتابت کروائی ہے لیکن آپ نے بھی اسے نوٹ نہیں کیا۔(مکتوب ۱۔۱۱۔۹۳) 36