کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 191 of 265

کلامِ طاہر — Page 191

نظم نمبر تری بقا کا سفر تھا قدم قدم اعجاز۔اس نظم کو پڑھتے ہوئے ایک شعر مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا۔ہو موت اس کی رضا خوشی پر یہی کرامت ہے سے اس کے کہے میں جو کھائیں سکھر ، اعجاز میں نے پڑھتے ہوئے اس پر ایک سوالیہ نشان لگا دیا کہ مزید غور کروں گی۔پیارے آقا کی نظر اس سوالیہ نشان پر پڑ گئی میری الجھن دور کرنے کے لئے وضاحت فرمائی: اس نظم کے دسویں شعر کے دوسرے مصرع کے سامنے آپ نے سوالیہ نشان ڈالا ہے۔یہ مصرع یوں ہے۔خوشی سے اُس کے کہے میں جو کھا ئیں سم اعجاز۔یہاں خدا تعالیٰ کا اعجاز مراد نہیں ہے بلکہ انسان کی کرامت اور اس کا اعجاز مراد ہے۔یہی مضمون ہے جو پہلے مصرع نے واضح کر دیا ہے۔گویا اعجاز تو یہ ہے کہ انسان اس کے کہے میں خوشی سے زہر بھی کھا جائے اور موت کی قطعا پر واہ نہ کرے۔پر واہ ہو تو صرف اس کی رضا کی ہو اور اس کی خاطر انسان تلخ سے تلخ گھونٹ پینے پر ہرلمحہ مستعد رہے۔" نظم نمبر ۳۰ (مكتوب ۱۵۔۵۔۹۳ صفحه ۳) الفضل کے رمئی ۱۹۹۲ء کے شمارہ میں صفحہ اول پر میری ایک پرانی نظم بی بی کے وصال پر چسپاں ہونے والے کچھ نئے اشعار اضافہ کے ساتھ شائع ہوئی ہے اس پر بھی میں نے نظر ثانی کی ہے۔اور اس کے علاوہ آخر پر بعض مزید اشعار کا اضافہ کیا ہے وہ بھی شامل کر لیں۔تم جن کا وسیلہ تھیں وہ روتی ہیں کہ تم نے دم توڑ کے توڑے ہیں ہزاروں کے سہارے وه آخری ایام - وہ بہتے ہوئے خاموش 37