کلامِ طاہر — Page 189
پہلے مصرع کے نصف کے آخری حرف کا قدم دوسرے نصف کے شروع میں جاپڑنے کے بہت سے نمونے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عربی فارسی کلام میں ملتے ہیں۔اور شعراء کے نزدیک ایسا کرنا جائز ہے۔ایسی صورت میں اگر اس کو پہلے حصے سے ملا کر پڑھیں تو وزن ٹوٹ جائے گا ورنہ نہیں۔بیسویں شعر میں لفظ انوار کے بارے میں آپ نے لکھا ہے کہ ہندی تسلسل میں اجنبی لگ رہا ہے۔اس وجہ سے دوسرے مصرع کو یوں ہونا چاہئے۔جس سے نور کے سوتے پھوٹے۔روشنیوں کا جو سا گر تھا اس نظم کا مزاج ملا جلا ہے۔یہ صرف سکھوں اور ہندوؤں کے لئے ہی نہیں بلکہ پاکستانیوں کے لئے بھی تھی۔اس لئے میں نے اس نظم میں بعض جگہ عربی اور فارسی الفاظ استعمال کرنے سے گریز نہیں کیا تاکہ ہم اپنا حق بھی قائم رکھیں۔جہاں تک انوار کے لفظ کا تعلق ہے، نور کی یہ جمع شاید زیادہ اجنبی لگ رہی ہو۔لیکن اس کو روشنیوں کی بجائے نوروں میں تبدیل کر دیا جائے تو اور کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں۔کیونکہ لفظ نور جو پہلے آیا ہوا ہے وہ تو پھر بھی موجود رہے گا۔جس کو نور کی سمجھ آ جائے گی وہ نوروں کو بھی سمجھ جائے گا۔پس یہ شعر یوں بن جائے گا۔سیرا سہاگن رہے یہ بستی جس میں پیدا ہوئی وہ ہستی جس سے نور کے سوتے پھوٹے جو نوروں کا اک ساگر تھا اس نظم کا آخری شعر ہے۔ہیں سب نام خدا کے سندر۔(مكتوب ۱۵۔۵۔۹۳ صفحه ۵،۴) وا ہے گرد۔اللہ اکبر سب فانی۔اک وہی ہے باقی۔آج بھی ہے جو کل ایشر تھا خاکسار کی پہنچ محض لغت تک تھی۔لغت دیکھ کر تجویز کر دیا کہ ایشر کی جگہ ایشور ہو تو وزن نہیں ٹوٹتا۔35