کلامِ طاہر — Page 187
نظم نمبر ۲۳ کہہ رہا ہے خرام بادصبا جب تلک دم چلے مُدام چلو خرام مندرجہ بالا شعر میں پہلی اشاعت میں مؤنث باندھا گیا تھا۔نظر ثانی کی مؤدبانہ درخواست پر نه برامانا ، نہ گستاخی پر محمول سمجھا۔کھلے لفظوں میں حقیقت حال بیان فرمائی۔اعلیٰ ظرفی اور وسیع القلمی کا ایسا مظاہرہ دنیا کے بڑوں میں کہاں دیکھنے کو ملتا ہے۔یہ حصہ صرف اس سبق کے لئے بھی بہت اہمیت رکھتا ہے کہ بڑا دل دکھانے سے کوئی چھوٹا نہیں ہو جاتا۔وضاحت سے تحریر فرمایا: دیگرام کے متعلق میری غلط فہمی ان شعروں کی وجہ سے ہے جن میں لفظ خرام استعمال ہوا اور جہاں ضمیر لفظ خرام کی طرف نہیں بلکہ مضاف کی طرف جاتی ہے جیسے : موج خرام ناز بھی کیا گل کتر گئی اسی طرح میرے علم میں خرام کے معنوں میں جتنے لفظ مستعمل ہیں وہ سب چونکہ تانیث کا مرتبہ رکھتے ہیں جیسے چال ورفتار وغیرہ۔اس لئے اس خیال سے بھی ہمیشہ اس لفظ کو تانیث کے درجہ پر رکھتا رہا۔اب آپ نے توجہ دلائی تو لغات اٹھا کر دیکھیں جس سے معلوم ہوا کہ اہل ادب کے ہاں اسکو مؤنث استعمال کی کوئی سند نہیں۔ویسے بھی یہ شعر کچھ کمزور تھا کیونکہ صبا تو صبح کی ہوا کو کہتے ہیں شام کی ہوا کو نہیں اور صبا کا پیغام صبح چلنے کا تو ہوسکتا ہے ، شام چلنے کا نہیں۔لیکن چونکہ یہ دونوں نظمیں جو جلسہ میں پڑھی گئیں جلسے سے چند دن پہلے شروع ہوئیں اور جلسہ کے ہنگامے کے دنوں میں مکمل ہوئیں اس لئے پوری طرح نظر ثانی نہیں ہو سکتی تھی۔اگر خرام لفظ استعمال ہوتا تو پھر بھی مؤنث میں ہی ہونا تھا۔لیکن ہو سکتا ہے کہ متبادل شعر میں یہ لفظ آتا ہی نہ۔اس لئے اگر وقت ملا تو پہلا مصرع تبدیل کر کے الفضل کو ترمیم کے لئے لکھ دوں گاور نہ اس شعر کو حذف کرنے کے لئے اعلان کروایا جا سکتا ہے۔(مكتوب ١٢ / نومبر ١٩٩١ء ) 33