کلامِ طاہر — Page 188
بحر عالم میں اک بپا کر دو پیار کا غلغلہ تلاطم عشق خاکسار نے پہلے مصرع میں اک کی جگہ "تم تجویز کیا جو حضور نے از راہ شفقت منظور فرمالیا مگر جب مسودہ اصلاح کے لئے گیا تو تم کو پھر اک ہی تحریر کروایا۔میرے توجہ دلانے پر آپ نے بڑا دلچسپ جملہ لکھا: بحر عالم میں اک بپا کر دو والے مصرع میں اک کی بجائے ”تم کی اجازت دی ہو گی لیکن بادل نخواستہ دی ہو گی کہ آپ کی ہر بات کا تو انکار نہیں ہوسکتا۔ویسے مجھے تو اک زیادہ پسند ہے“۔☆ ☆ ☆۔۔۔۔۔(مکتوب ۵/ دسمبر ۱۹۹۳ء) اپنے دیس میں اپنی بستی میں اک اپنا بھی تو گھر تھا اس نظم میں انیسواں شعر ہے۔آخر دم تک تجھ کو پکارا۔آس نہ ٹوٹی دل نہ ہارا مصلح عالم باپ ہمارا۔پیکر صبر ورضار ہبر تھا خاکسار کی معمولی سی ترمیم کی درخواست پر آپ نے اصولی بحث کے ساتھ اچھی طرح سمجھایا تحریر فرماتے ہیں۔ول نہ ہارا کی بجائے آپ نے دل بھی نہ ہارا کی تجویز دی ہے۔وزن تو اس میں بھی نہیں ٹوٹتا۔صرف پڑھنے کے انداز کا فرق ہے۔کسی لفظ پر زیادہ زور دے کر پڑھا جائے یا کم زور دے کر پڑھا جائے۔تو اس سے بعض اوقات شعر کا وزن ٹوٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔مثلاً اس نظم کا پہلا مصرع ہے اپنے دیس میں اپنی بستی میں اک اپنا بھی تو گھر تھا لفظ میں اس مصرع کے دوسرے نصف میں واقع ہے۔لیکن جو اسے پہلے حصہ کے ساتھ ملاتے ہیں وہ وزن تو ڑ دیتے ہیں۔جیسا کہ قادیان میں پڑھنے والے نے یہ مصرع پڑھا ہے۔اور جس جگہ زور آنا چاہیئے اس سے ہٹا کر دوسرے لفظ پر منتقل کرنے کے نتیجہ میں بالکل بے وزن مصرع لگ رہا ہے 34