کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 186 of 265

کلامِ طاہر — Page 186

ہو کھیں گھل گھل کر جو چراغ بجھے۔تو پھر وزن درست رہتا ہے۔اگر چہ یہ کم ہے۔اس لئے اگر اسے بدلنا ہے تو پھر اس سے اگلے حصہ مصرع کو بھی وزن کی درستی کے لئے بدلنا پڑے گا اور اس میں وہ یا نیوں یا اور زائد ڈالنا پڑے گا۔آپ کے مجوزہ متبادل میں پہلا تو مکمل ہے۔لیکن دوسرے میں جوڑنے کے لئے جو لفظ چاہئے وہ غائب ہے مثلاً یوں گھل گھل کر جو چراغ بجھے' کر دیا جائے تو پھر ٹھیک ہے۔پڑھنے کے انداز کے فرق سے جو تم سا پیدا ہوتا ہے اس کی مثالیں قادر الکلام شعراء کے حوالے سے بیان کر چکا ہوں جو مکروہ نہیں کبھی جاتیں۔اس لئے وزن ٹھیک رکھنے کی خاطر اگر نصف مصرع کا کچھ آخرکی ٹکڑا دوسرے نصف مصرع کو شروع میں مستعار بھی دینا پڑے تو کوئی حرج نہیں۔بہر حال اس مصرع کی شکل دو طرح بن سکتی ہے پہلی تجویز میں یوں اگر زائد لگتا ہو تو اسے اور کرلیں۔ہیں۔ا۔جو آنکھیں مند گئیں رو رو کر۔یوں گھل گھل کر جو چراغ بجھے ۲۔جو مند گئیں آنکھیں روتے روتے۔گھل گھل جو چراغ بجھے مجھے تو پہلی تجویز کیوں کی بجائے اور کے ساتھ اچھی لگ رہی ہے۔آپ کو جو پسند ہو وہ رکھ (مکتوب ۱۵ مئی ۱۹۹۳ء صفحه ۱۱) ظالم نے اپنے ظلم سے خود اپنے ہی افق دھندلائے ہیں کے متعلق آپ نے تجویز دی ہے کہ آپ کی بجائے خود بھی ہو سکتا ہے۔آپ کی تجویز منظور ہے۔بہت اچھی ہے۔جزاکم اللہ تعالی۔ٹھیک ہے اس کے مطابق اب اسے یوں کر دیں: ظالم نے اپنے ظلم سے خود اپنے ہی افق دھند لائے ہیں (مكتوب ٫۵دسمبر ۱۹۹۳ء) الله 32